Technology
مصنوعی ذہانت سے گھر کا نظام: ہاکس بے کی خاتون کی متاثر کن کہانی
ہاکس بے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے اپنے ریٹائرمنٹ ولا کو ایک جدید اسمارٹ ہوم میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ان کی روزمرہ کی زندگی کو آسان بنانے اور گھریلو امور کو خودکار طریقے سے انجام دینے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال صرف دفاتر یا بڑی صنعتوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ عام انسانوں کی نجی زندگی میں بھی انقلابی تبدیلیاں لا رہا ہے۔ نیوزی لینڈ کے علاقے ہاکس بے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کو سہولت بخش بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کو اپنے گھر کا حصہ بنا لیا ہے۔ وہ اپنے ٹاؤن ہاؤس میں الیکسا (Alexa) جیسے جدید وائس اسسٹنٹ آلات کا استعمال کرتی ہیں، جو ان کے گھر کے تمام اہم کاموں کو ایک اشارے پر انجام دیتے ہیں۔ اب انہیں بجلی کے سوئچ دبانے یا کچن میں جا کر چولہا جلانے کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ سب کچھ خودکار ہو چکا ہے۔
اس خاتون کا کہنا ہے کہ صبح اٹھنے سے لے کر رات کے کھانے تک، ہر کام مصنوعی ذہانت کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ جب وہ جاگتی ہیں تو الیکسا خود بخود لائٹس آن کر دیتا ہے، چائے کے لیے کیتلی گرم کر دیتا ہے اور ٹیلی ویژن پر ان کے پسندیدہ پروگرام چلا دیتا ہے۔ کمرے میں ہلکی موسیقی کا انتظام ہو یا خریداری کی فہرست تیار کرنا، یہ تمام کام صوتی احکامات (Voice Commands) کے ذریعے منٹوں میں مکمل ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس ٹیکنالوجی نے نہ صرف ان کا وقت بچایا ہے بلکہ بڑھتی ہوئی عمر کے پیش نظر انہیں ایک خودمختار اور آرام دہ زندگی گزارنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس قسم کے اسمارٹ ہوم پروجیکٹس بزرگ شہریوں کے لیے بہت مفید ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہ انہیں جسمانی مشقت کے بغیر گھر کے ماحول کو کنٹرول کرنے کی آزادی دیتے ہیں۔ ہاکس بے کی اس خاتون کی کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ تنہائی یا بڑھاپے میں آنے والی مشکلات کو دور کرنے میں ایک بہترین ساتھی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا تجربہ اب مقامی آبادی کے لیے ایک مثال بن چکا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل دور کی ایجادات انسانی زندگی کے معیار کو بلند کر سکتی ہیں۔
مستقبل قریب میں اس طرح کے سمارٹ ہومز کی مقبولیت میں مزید اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو اپنی روزمرہ کی زندگی میں سہولت اور جدت لانا چاہتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کا یہ استعمال صرف ایک شوق نہیں بلکہ ایک ضرورت بن چکا ہے، جو ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں ٹیکنالوجی کس طرح ہمارے رہن سہن کے روایتی طریقوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گی۔