LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر الیکشن: رانا ثناء اللہ کی دو تہائی اکثریت کی پیشگوئی

News Image
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے پرامید انداز میں کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں ان کی جماعت کلین سویپ کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی عمل کے دوران حائل رکاوٹوں کے باوجود پارٹی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا ثناء اللہ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران یہ دعویٰ کیا ہے کہ آزاد کشمیر میں منعقد ہونے والے حالیہ انتخابات میں ان کی جماعت شاندار کامیابی حاصل کرے گی۔ رانا ثناء اللہ کے مطابق مسلم لیگ (ن) نہ صرف اکثریت حاصل کرے گی بلکہ وہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کی پوزیشن میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ آنے کی توقع ہے اور تمام تر سیاسی مشکلات کے باوجود پارٹی اپنی کامیابی کو یقینی بنائے گی۔ دوسری جانب، آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کے آخری مرحلے کو کئی طرح کی رکاوٹوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ انتخابی شیڈول میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے تیسرے مرحلے کے لیے نظرثانی شدہ شیڈول کے اعلان کے بعد سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ایک ایک نشست جیتی ہے، جس کے بعد دھاندلی کے الزامات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس سے انتخابی ماحول مزید کشیدہ ہو گیا ہے۔ انتخابی مہم اپنے حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق آخری مرحلے کی پولنگ سے قبل مہم آج رات ختم ہو جائے گی۔ آزاد کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے دو تہائی اکثریت کا دعویٰ اپوزیشن جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ان الزامات کی شفاف تحقیقات کرنی چاہیے تاکہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد برقرار رہ سکے۔ آئندہ چند گھنٹے آزاد کشمیر کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ جہاں ایک طرف انتخابی مہم کا اختتام ہو رہا ہے وہیں دوسری طرف تمام سیاسی جماعتیں اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ رانا ثناء اللہ کے دعوے اور اپوزیشن کی جانب سے لگائے گئے دھاندلی کے الزامات کے درمیان، آزاد کشمیر کے ووٹرز کا فیصلہ ہی حتمی ہوگا کہ کون سی جماعت اقتدار کی راہداریوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوتی ہے۔