World
یمن میں جاری خانہ جنگی، مآرب میں حوثیوں کے خلاف حکومتی کارروائی
یمن میں سرکاری افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے بعد مآرب میں شدید لڑائی جاری ہے۔ اس تازہ ترین تصادم میں دونوں اطراف سے جانی نقصانات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یمن کے شہر مآرب میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں حکومتی افواج اور حوثی باغیوں کے درمیان خونریز جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، حوثی ملیشیا کی جانب سے حکومتی ٹھکانوں پر گولہ باری کے بعد سرکاری فورسز نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ اس تازہ ترین کشیدگی نے اس خطے میں ایک بڑی جنگ کے خدشات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جو پہلے ہی برسوں سے جاری خانہ جنگی کے سبب انسانی بحران کا شکار ہے۔ حالیہ دنوں میں حوثیوں کی جانب سے فوجی کیمپوں پر کیے جانے والے حملوں میں 38 کے قریب سرکاری فوجی جاں بحق ہوئے ہیں، جس کے بعد حکومتی اتحاد نے اپنی جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
اس لڑائی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حوثی باغیوں نے نہ صرف مآرب بلکہ سعودی عرب کے اندر بھی ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں 11 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ عالمی مبصرین کا ماننا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں کسی بڑی عسکری حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہیں جس کا مقصد مآرب کے اسٹریٹجک علاقے پر قبضہ کرنا ہے۔ مآرب حکومت کے زیر اثر آخری اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس لیے دونوں فریقین اس علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے پوری طاقت جھونک رہے ہیں۔
حکومتی ترجمان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ سرکاری فورسز حوثی باغیوں کے ان جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری نے یمن میں جاری اس خونریزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ تاہم، زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مذاکرات کے راستے فی الحال بند دکھائی دیتے ہیں اور دونوں جانب سے بھاری اسلحے کا استعمال خطے میں مزید تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عام شہریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ جھڑپوں کا مرکز گنجان آباد علاقوں کے قریب منتقل ہو رہا ہے۔
یہ صورتحال یمن کے لیے ایک انتہائی نازک موڑ ہے، جہاں سیاسی حل کے تمام تر امکانات عسکری محاذ آرائی کی نذر ہو رہے ہیں۔ اگر مآرب میں جنگ اسی شدت سے جاری رہتی ہے تو یہ نہ صرف یمنی عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی بلکہ خطے کی سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن جائے گی۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس تصادم کے نتائج پر مرکوز ہیں اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا بین الاقوامی دباؤ فریقین کو جنگ روکنے پر آمادہ کر سکے گا یا نہیں، کیونکہ مآرب کا معرکہ یمن کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔