Pakistan
آزاد کشمیر الیکشن: پونچھ ڈویژن میں پولنگ کی نئی تاریخ کا اشارہ
آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے اعلان کیا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پونچھ ڈویژن کی باقی ماندہ نشستوں پر پولنگ اگست کے تیسرے ہفتے میں متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغ اور حویلی کے اضلاع میں انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد دیگر حلقوں کی تاریخ کا اعلان سات دن کے اندر کر دیا جائے گا۔
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ریٹائرڈ) غلام مصطفی مغل نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سیکیورٹی کے پیش نظر فیصلہ کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں باغ اور حویلی کے اضلاع میں انتخابی عمل کو مکمل کیا جائے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ پونچھ ڈویژن کے باقی ماندہ سات حلقوں میں پولنگ کا عمل 20 یا 21 اگست تک منعقد کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس مغل نے کہا کہ کمیشن اگلے سات دنوں کے اندر پونچھ اور سدھنوتی کے اضلاع کے لیے انتخابی تاریخ کا حتمی اعلان کرنے کی پوزیشن میں ہوگا، کیونکہ ووٹرز کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے مناسب وقت دینا ضروری ہے۔
پونچھ ڈویژن کل 11 حلقوں پر مشتمل ہے جن میں سے تین باغ، ایک حویلی، پانچ پونچھ اور دو سدھنوتی اضلاع میں واقع ہیں۔ ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 11 لاکھ 54 ہزار 626 ہے۔ موجودہ مرحلے میں پولنگ چار حلقوں میں ہوگی جہاں 4 لاکھ 60 ہزار سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، جن کے لیے 803 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ان انتخابات میں 82 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں موجودہ وزیراعظم سمیت سابق وزراء اور اہم سیاسی شخصیات شامل ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے ووٹ کا استعمال یقینی بنائیں کیونکہ یہ نہ صرف جمہوری حق ہے بلکہ ایک مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔
انتظامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس مغل نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکار باغ اور حویلی پہنچ چکے ہیں اور فوج کی نگرانی میں پولنگ کا سامان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنوں پر آٹھ سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ جب ان سے کامیاب امیدواروں کی حلف برداری کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے وضاحت کی کہ آئینی طور پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے، لیکن اخلاقی تقاضا یہی ہے کہ پوری اسمبلی مکمل ہونے کے بعد ہی ایوان کا اجلاس بلایا جائے، جس کے بعد اسپیکر اور قائد ایوان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔
اپوزیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی اپنی حدود ہیں اور وہ سیاسی بیانات کا جواب دینے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دیتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتخابات کے مکمل ہونے کے بعد تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ نتائج کی بروقت ترسیل ممکن ہو سکے۔ دوسری جانب حکومتی مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ن لیگ ان انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے حکومت تشکیل دے گی۔