Politics
جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا لائحہ عمل جاری
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 16 اگست کو ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں گورنر ہاؤسز اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے۔
لاہور: جماعت اسلامی پاکستان نے پیٹرولیم لیوی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف اپنی احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت منصورہ میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ 16 اگست کو ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں بیک وقت دھرنے دیے جائیں گے۔ یہ دھرنے لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب ہاؤس اور خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں گورنر ہاؤسز کے باہر منعقد کیے جائیں گے تاکہ حکومت پر پیٹرولیم لیوی واپس لینے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں ملک بھر میں ہونے والے 510 سے زائد پرامن مظاہروں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوام حکومتی پالیسیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیٹرول کی قیمتوں کو کم کر کے 225 روپے فی لیٹر تک لایا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمران طبقہ اپنی مراعات، مفت ایندھن اور بجلی کی سہولیات چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ غریب عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر ان کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنخواہ دار طبقہ اور متوسط گھرانے اب مزید مہنگائی کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔
امیر جماعت اسلامی نے بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کے معاہدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ابتدائی طور پر مذاکرات سے انکار کیا تھا لیکن عوامی دباؤ کے بعد بات چیت کی گئی، جس کے کچھ مثبت نتائج سامنے آئے تاہم بعد میں اس عمل کو روک دیا گیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے عوام کے حقوق کا خیال نہ رکھا تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جماعت اسلامی اب قومی اتحاد کی علامت بن کر ابھر رہی ہے کیونکہ ملک کے دور دراز علاقوں سے لوگ مہنگائی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امت مسلمہ کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس دفاعی تعاون کے دائرہ کار کو ایران، قطر، بنگلہ دیش، ملائیشیا اور انڈونیشیا تک پھیلایا جانا چاہیے تاکہ مسلم ممالک بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کر سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام مسلم ممالک کو باہمی اختلافات بھلا کر ایک مضبوط بلاک بنانے کی ضرورت ہے تاکہ خطے کے درپیش چیلنجز کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔