LIVE
Loading Breaking News...

امریکی عدالت کا تارکین وطن کے تحفظات سے متعلق اہم فیصلہ

News Image
امریکی وفاقی عدالتوں نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو دو مخصوص ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو دی گئی عارضی قانونی حیثیت ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ تارکین وطن کی بڑی تعداد کے لیے اپنے قیام کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
امریکی عدلیہ کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور متنازعہ فیصلے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ ان دو ممالک کے تارکین وطن کو حاصل عارضی قانونی تحفظات کو ختم کر سکیں جو طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ عدالتی حکم کے بعد ان ہزاروں تارکین وطن کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے جو پہلے سے ہی سخت امیگریشن قوانین اور حکومتی پالیسیوں کے دباؤ میں کام کر رہے تھے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی ان پالیسیوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنا اور قانونی حیثیت رکھنے والوں کے لیے قوانین کو مزید سخت بنانا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، عدالت کی جانب سے دی گئی یہ اجازت انتظامیہ کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ 'عارضی محفوظ حیثیت' (TPS) کے حامل افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر سکے۔ متاثرہ ممالک کے تارکین وطن، جو برسوں سے امریکہ میں مقیم تھے، اب خود کو غیر یقینی صورتحال میں پا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے ظالمانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ان خاندانوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے جو اپنے بچوں اور روزگار کے لیے امریکہ پر انحصار کرتے ہیں۔ دوسری جانب حکومتی وکلاء کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلے ملکی سلامتی اور امیگریشن کے نظام کو منظم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب ان تارکین وطن کو اپنی قانونی جنگ جاری رکھنے کے لیے نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں دیگر امیگریشن پالیسیوں کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتا ہے۔ واشنگٹن میں موجود سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ قدم آنے والے دنوں میں مزید قانونی چیلنجز اور عوامی احتجاج کا باعث بنے گا۔ تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے تاکہ ہزاروں افراد کو ملک بدری کے خوف سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم فی الحال، انتظامیہ اپنے موقف پر قائم نظر آتی ہے اور اس فیصلے کو اپنی امیگریشن ایجنڈا کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے۔