LIVE
Loading Breaking News...

مونگ پھلی کی الرجی کا نیا علاج: آنتوں کے بیکٹیریا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

News Image
طبی ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ آنتوں میں موجود مخصوص بیکٹیریا کے علاج سے مونگ پھلی کی شدید الرجی پر قابو پانا ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ دریافت الرجی کے شکار مریضوں کے لیے ایک امید افزا پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک اہم طبی تحقیق پیش کی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی آنتوں میں موجود بیکٹیریا کا توازن مونگ پھلی سے ہونے والی شدید الرجی کے علاج میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ جن افراد کو مونگ پھلی کھانے سے جان لیوا ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کے نظام ہاضمہ میں مخصوص قسم کے جراثیم کی کمی یا عدم توازن پایا جاتا ہے۔ اس نئی تحقیق کے تحت محققین ایسے طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے مریضوں کے نظام ہاضمہ میں ان فائدہ مند بیکٹیریا کو دوبارہ بحال کر کے الرجی کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کے نتائج الرجی کے شکار لاکھوں مریضوں کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہیں۔ ماضی میں الرجی کا واحد علاج صرف الرجی پیدا کرنے والی غذا سے پرہیز کرنا تھا، تاہم اب ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مدافعتی نظام کو آنتوں کے بیکٹیریا کے ذریعے درست سمت دی جا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنتوں کا مائیکرو بائیوم، جو کہ انسان کے پورے مدافعتی نظام کو کنٹرول کرتا ہے، مونگ پھلی کے پروٹین کے خلاف جسم کے ردعمل کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس طریقہ کار میں مریضوں کو مخصوص پروبائیوٹکس یا دیگر علاج فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ ان کی آنتیں مونگ پھلی کے اجزاء کو نقصان دہ سمجھنے کے بجائے انہیں ہضم کرنے کے قابل ہو سکیں۔ اس پیش رفت کے بعد اب طبی دنیا میں مزید وسیع پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز کی تیاری کی جا رہی ہے تاکہ اس علاج کی افادیت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس تحقیق کے حتمی نتائج نہ صرف الرجی کے مریضوں کے معیار زندگی کو بہتر بنائیں گے بلکہ الرجی کے علاج کے روایتی طریقوں میں بھی ایک انقلابی تبدیلی لائیں گے۔