LIVE
Loading Breaking News...

اسکاٹ بیسنٹ کی معاشی ترجیحات اور عالمی معیشت پر اثرات

News Image
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے کیمپ ڈیوڈ میں میڈیا کے سامنے رکھی گئی 'ٹو ڈو لسٹ' عالمی معاشی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فہرست ٹرمپ انتظامیہ کی مستقبل کی معاشی ترجیحات اور عالمی منڈیوں پر اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
حال ہی میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کا اجلاس کیمپ ڈیوڈ میں منعقد ہوا تو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے غیر معمولی طور پر ایک 'ٹو ڈو لسٹ' (To-Do List) اپنے سامنے میز پر رکھی، جو صحافیوں کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکی۔ اس فہرست کا منظر عام پر آنا نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے بھی تجسس کا باعث بنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ اس میں درج نکات امریکی معاشی پالیسی کی سمت کا تعین کرنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے اس فہرست کو اس طرح نمایاں کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے معاشی ایجنڈے کو انتہائی ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اس فہرست میں موجود معاملات عالمی تجارت، محصولات، اور امریکی ٹیکس اصلاحات پر محیط ہو سکتے ہیں، جن کا براہ راست اثر عالمی معیشت پر پڑے گا۔ ماضی میں ٹرمپ انتظامیہ کی 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کے تحت جو اقدامات کیے گئے تھے، اس نئی فہرست سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اب ان اقدامات کو مزید مربوط اور تیز کیا جائے گا۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر اسکاٹ بیسنٹ اپنی اس فہرست پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں تو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں لانی پڑ سکتی ہیں۔ خاص طور پر ڈالر کی قدر، افراطِ زر اور عالمی سپلائی چین پر اس کے اثرات کو نظر انداز کرنا ناممکن ہوگا۔ دوسری جانب، عالمی سیاسی و معاشی تجزیہ کار اس بات پر فکر مند ہیں کہ آیا یہ پالیسیاں دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو متاثر کریں گی یا نہیں۔ کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد سے ہی وال اسٹریٹ اور دیگر عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں ایک غیر یقینی کی فضا دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ وزیر خزانہ کی جانب سے ان نکات کو پبلک کرنے کی حکمت عملی پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ اسکاٹ بیسنٹ اب عالمی اقتصادی پالیسی کے مرکزی کردار کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ آخر میں، یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے ان معاشی اہداف کو کس حد تک عملی جامہ پہنا پاتی ہے۔ عالمی معیشت پہلے ہی مختلف چیلنجز کا شکار ہے، اور ایسے میں امریکہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے نئے معاشی اقدامات پوری دنیا کے لیے توازن کو برقرار رکھنے کا امتحان ثابت ہوں گے۔ اسکاٹ بیسنٹ کی یہ 'ٹو ڈو لسٹ' اب آنے والے دنوں میں عالمی معاشی مباحثوں کا مرکزی نقطہ رہے گی اور ہر کسی کی نظریں اس بات پر ہوں گی کہ اس فہرست کے نکات پر عملدرآمد کیسے کیا جاتا ہے۔