LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں فضائی نظام درہم برہم، پروازیں معطل

News Image
امریکہ کے دس ریاستوں میں ایف اے اے کے ریڈار اور ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم میں خرابی کے باعث فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا۔ اس تکنیکی خرابی کی وجہ سے درجنوں پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور کئی طیاروں کو دوسرے مقامات پر ڈائیورٹ کرنا پڑا۔
امریکہ کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) کے ریڈار اور ایئر ٹریفک کنٹرول کے اہم سسٹمز میں اچانک تکنیکی خرابی پیدا ہونے سے ملک کی دس ریاستوں میں فضائی آپریشن بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس تکنیکی مسئلے کے باعث وسطی امریکہ میں پروازوں کے شیڈول میں نہ صرف شدید تاخیر دیکھی گئی بلکہ درجنوں پروازوں کو اپنے مقررہ راستوں سے ہٹ کر دوسرے ہوائی اڈوں کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہ صورتحال ایوی ایشن کے نظام میں اچانک پیدا ہونے والی خرابی کے باعث پیدا ہوئی جس نے فضائی مسافروں کے معمولات زندگی کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تکنیکی تعطل ایک علاقائی سینٹر سے شروع ہوا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے وسیع تر ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایف اے اے کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ ریڈار سسٹم کے عارضی طور پر آف لائن ہونے کی وجہ سے حفاظتی اقدامات کے تحت پروازوں کی آمد و رفت کو روک دیا گیا تھا تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔ حکام نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا، تاہم اس عمل کے دوران ہزاروں مسافر ہوائی اڈوں پر گھنٹوں تک پھنسے رہے۔ امریکہ کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں بھی اس خرابی کے اثرات نمایاں رہے جہاں پروازوں کی منسوخی اور تاخیر سے متعلق اعلانات نے مسافروں میں اضطراب پیدا کر دیا۔ ایف اے اے کی ٹیمیں سسٹم کو بحال کرنے کے لیے مسلسل کوشاں رہیں اور تکنیکی ماہرین نے متاثرہ ڈیٹا سسٹم اور ریڈار کنکشنز کی جانچ پڑتال کی۔ ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں فضائی نظام کا انحصار ٹیکنالوجی پر ہے اور اس قسم کی خرابیوں سے پورے ملک کا ایئر ٹریفک نظام منٹوں میں مفلوج ہو سکتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سسٹم آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہو گیا ہے تاہم پروازوں کے معمول پر آنے میں مزید کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ ایئرلائن انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہوائی اڈے پر جانے سے پہلے اپنی پروازوں کی تازہ ترین صورتحال معلوم کر لیں۔ فی الحال حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ خرابی کسی سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کا نتیجہ تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور تکنیکی وجوہات کارفرما تھیں۔