Business
لندن کی بڑی کمپنیوں پر امریکی سرمایہ کاری کا دباؤ اور مارکیٹ کی صورتحال
لندن کے مالیاتی مرکز میں امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے برطانوی کمپنیوں کو خریدنے کے لیے سودے بازی کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ یہ رجحان لندن اسٹاک مارکیٹ کے لیے ایک غیر معمولی صورتحال پیدا کر رہا ہے جس سے کاروباری حلقے تشویش کا شکار ہیں۔
لندن کا مالیاتی مرکز ان دنوں ایک ایسی غیر معمولی صورتحال سے گزر رہا ہے جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔ سٹی آف لندن میں اس وقت ڈیل میکنگ کا ایک ایسا طوفان برپا ہے جس نے بینکرز، وکلاء اور کارپوریٹ مشیروں کو مسلسل مصروف عمل کر دیا ہے۔ امریکی سرمایہ کاروں کی جانب سے لندن کی سب سے بڑی اور بہترین کمپنیوں کو خریدنے کے لیے دکھایا جانے والا جوش و خروش اس وقت برطانوی مارکیٹ میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جارحانہ انداز کسی 'بیئر ہگ' یا گلے ملنے کی مانند ہے جس کا مقصد برطانوی کاروباری اداروں کو اپنی گرفت میں لینا ہے۔
اس رجحان کی بنیادی وجہ لندن اسٹاک مارکیٹ میں درج بہت سی کمپنیوں کی کم قیمتیں اور امریکی سرمایہ کاروں کے پاس موجود وافر سرمایہ ہے۔ امریکی خریداروں کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ لندن کی پختہ اور مستحکم کمپنیوں کو نسبتاً سستی قیمت پر حاصل کر سکیں۔ تاہم، مقامی تجزیہ کار اس پیش رفت کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر اسی رفتار سے برطانوی کمپنیاں امریکی ہاتھوں میں جاتی رہیں تو لندن کی اپنی مالیاتی شناخت اور اثر و رسوخ طویل مدت میں متاثر ہو سکتا ہے۔
بینکنگ اور قانونی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ کیا یہ سودے بازی برطانوی معیشت کے لیے سودمند ثابت ہوگی یا یہ برطانوی صنعتوں کو بیرونی کنٹرول کے سپرد کرنے کا عمل ہے۔ لندن کی معروف کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ تو دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن ساتھ ہی انتظامی سطح پر تبدیلیوں اور ممکنہ چھانٹیوں کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ کارپوریٹ مشیروں کے مطابق، اس وقت لندن کے مالیاتی راہداریوں میں ہر طرف ڈیلز اور حصولِ کارپوریشنز کی باتیں ہو رہی ہیں، جو اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ برطانوی مارکیٹ اب عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم ہدف بن چکی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے مالیاتی ماہرین محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ سرمایہ کاری کا آنا کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے مثبت سمجھا جاتا ہے، لیکن جب یہ عمل 'سمودرنگ' یا دم گھٹنے کی سطح تک پہنچ جائے تو ریگولیٹرز کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ برطانوی حکومت اور مالیاتی نگران اداروں کو اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ خریداری کا عمل منصفانہ ہے یا یہ لندن کی سب سے بڑی کمپنیوں کی خود مختاری کے لیے خطرہ ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ فیصلہ کن ہوگا کہ لندن کا مالیاتی ڈسٹرکٹ اپنی حیثیت کو برقرار رکھ پاتا ہے یا عالمی سرمایہ داروں کی اس بڑی لہر میں خود کو ڈھال لیتا ہے۔