LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ: ایران کا ردعمل

News Image
ایران نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے نئے باہمی دفاعی معاہدے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تہران کا ماننا ہے کہ خطے میں اس قسم کے عسکری اتحاد مشرق وسطیٰ کے پہلے سے کشیدہ حالات میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
ایران نے حال ہی میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں اس نئے عسکری اتحاد کو مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے ایک غیر ضروری قدم قرار دیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر اپنی سکیورٹی پارٹنرشپ کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں، جس کے تحت یہ اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ سکتے ہیں اور پہلے سے جاری تنازعات کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ مشقوں کے شعبوں میں کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کا مقصد اس اتحاد کے ذریعے اپنے دفاعی نیٹ ورک کو وسیع کرنا ہے تاکہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ دوسری جانب پاکستان اور ترکیہ کی شمولیت اس اتحاد کی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے، کیونکہ یہ دونوں ممالک خطے میں اہم عسکری قوتیں سمجھے جاتے ہیں۔ تہران، جو اس خطے میں اپنی سکیورٹی پالیسیوں کو خاص اہمیت دیتا ہے، اس نئے اتحاد کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھ رہا ہے اور اسے اپنی سرحدوں کے قریب ایک ممکنہ چیلنج قرار دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ اس اتحاد کا مقصد نہ صرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی سفارتی اور عسکری پوزیشن کو مستحکم کرنا بھی ہے۔ ایران کی جانب سے اس پر تشویش کا اظہار کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ تہران طویل عرصے سے سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کو اپنے قومی مفادات کے خلاف سمجھتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یہ دفاعی معاہدہ خطے میں کسی نئی صف بندی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے یا پھر سفارتی سطح پر اس کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے گا۔ مستقبل میں اس معاہدے کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک کس حد تک اس اتحاد پر عمل درآمد کرتے ہیں اور آیا دیگر علاقائی ممالک اس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔ ایران نے اپنے اتحادیوں اور عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کے نئے فوجی بلاکس کی حوصلہ شکنی کریں کیونکہ یہ قیام امن کے بجائے کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ نکسورا نیوز کے مطابق، مشرق وسطیٰ کی سیاست اب ایک نازک موڑ پر ہے جہاں ہر نیا قدم تزویراتی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔