LIVE
Loading Breaking News...

فینکس فلکسن اور اے آئی کا تنازع: 'RUBBERZ' کی حقیقت سامنے آ گئی

News Image
مشہور ریپر فینکس فلکسن نے آخرکار اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ ان کے وائرل ہٹ گانے 'RUBBERZ' کی تیاری میں اے آئی ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ طویل عرصے تک ان قیاس آرائیوں کی تردید کرتے رہے تھے۔
امریکی موسیقی کی دنیا میں گزشتہ کچھ عرصے سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے استعمال پر بحث جاری ہے اور اب اس میں نیا موڑ تب آیا جب مشہور ریپر فینکس فلکسن نے اپنے مقبول ترین وائرل گانے 'RUBBERZ' کے حوالے سے ایک بڑا اعتراف کیا ہے۔ فینکس فلکسن، جو پہلے اس بات کی سختی سے تردید کر رہے تھے کہ ان کے اس ٹریک میں مصنوعی ذہانت کا کوئی کردار ہے، اب اپنے پرانے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ 'RUBBERZ' کی تخلیقی عمل میں اے آئی ٹیکنالوجی کو شامل کیا گیا تھا۔ فینکس فلکسن کا یہ بیان ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آیا ہے جو کئی مہینوں سے سوشل میڈیا اور موسیقی کے حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ ناقدین اور شائقین کا ایک بڑا طبقہ گانے کی آواز اور کمپوزیشن میں مصنوعی ساخت کو محسوس کر رہا تھا، جس کی فینکس نے ماضی میں متعدد بار مخالفت کی تھی۔ تاہم، اب فنکار نے کھلے دل سے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال موسیقی کی جدید تخلیق کا حصہ بن چکا ہے اور اس سے انکار کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس معاملے نے موسیقی کی صنعت میں ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا اے آئی کا استعمال تخلیقی صلاحیتوں کی توہین ہے یا یہ ایک ناگزیر ارتقائی عمل ہے۔ فینکس فلکسن کے اعتراف کے بعد ان کے مداحوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ جہاں کچھ لوگ اسے فنکار کی ایمانداری قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ کا ماننا ہے کہ اے آئی کے بغیر موسیقی کی اصل روح متاثر ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ فینکس فلکسن کا شمار ان ابھرتے ہوئے ریپرز میں ہوتا ہے جنہوں نے بہت کم وقت میں شہرت حاصل کی۔ 'RUBBERZ' کی کامیابی میں اس ٹیکنالوجی کا کردار کتنا رہا، اس پر اب تفصیلی بحثیں شروع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں موسیقی کے میدان میں اے آئی کا استعمال اور بھی عام ہو جائے گا، اور فینکس فلکسن کا یہ قدم اس بات کا ثبوت ہے کہ فنکار اب اسے چھپانے کے بجائے اسے ایک ٹول کے طور پر قبول کرنے کی جانب مائل ہیں۔