Politics
پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ، عمران خان کی رہائی کے لیے حکمت عملی
پاکستان تحریک انصاف نے اپنے قائد عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر عمران خان کی قید اور ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک بھر میں جاری سیاسی کشیدگی کے دوران 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب ایک بڑے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اپنے قائد اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی، عدلیہ کی آزادی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کیا جائے گا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق اس لانگ مارچ کا مقصد حکومت پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ ان کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور ملک میں سیاسی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔ پارٹی کی جانب سے کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مارچ میں بھرپور شرکت کی تیاری شروع کر دیں۔
ادھر عالمی سطح پر بھی عمران خان کی قید اور ان کی صحت کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے ساتھ انٹرویو میں عمران خان کے صاحبزادوں نے اپنے والد کی جیل میں صحت اور انہیں فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ان کے والد کے حقوق کا خیال رکھا جائے اور انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ یہ تشویش اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں عمران خان کی قید کو تین سال مکمل ہو چکے ہیں اور مختلف سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دے رہی ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس موقع پر پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ عمران خان کے بنیادی حقوق کو بحال کریں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عمران خان کی طویل قید اور ان کے خلاف جاری مقدمات انسانی حقوق کے معیارات کے مطابق نہیں ہیں۔ الجزیرہ اور دیگر عالمی میڈیا اداروں کی رپورٹوں کے مطابق پی ٹی آئی کارکنان ملک بھر میں اپنے قائد کی حمایت میں ریلیاں نکال رہے ہیں اور اسے ایک غیر منصفانہ اور من مانی حراست قرار دیتے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال دن بہ دن پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ لانگ مارچ کی کال نے دارالحکومت میں سیکیورٹی خدشات کو بھی جنم دیا ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے اہم مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم تحریک انصاف اپنی حکمت عملی پر قائم ہے اور اس بات کا اعادہ کر رہی ہے کہ یہ احتجاج پرامن ہوگا اور آئینی دائرہ کار کے اندر رہ کر کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 27 ستمبر کو ہونے والا یہ احتجاج ملکی سیاست میں کیا نئی تبدیلی لاتا ہے اور حکومت اس پر کیا ردعمل دیتی ہے۔