Pakistan
پاکستان میں بڑھتی ہوئی تعلیمی فیسیں: اعلیٰ تعلیم کا حصول مشکل
پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کی فیسوں میں مسلسل اضافے کے باعث تعلیم کا حصول غریب اور متوسط طبقے کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو ملک میں تعلیمی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ اس وقت ایک شدید بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے، جہاں یونیورسٹیوں کی فیسوں میں حالیہ ہوشربا اضافے نے تعلیم کو ایک مہنگی ترین شے بنا دیا ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن اور دیگر تعلیمی رپورٹس کے مطابق، ملک کے تعلیمی ایجنڈے کا ایک بڑا حصہ تاحال نامکمل ہے اور بڑھتی ہوئی فیسیں طلبہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن کر ابھری ہیں۔ درمیانے اور نچلے طبقے کے خاندانوں کے لیے اب اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بھیجنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ذہین طلبہ بھی اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ملک کی ترقی کا انحصار براہ راست کلاس روم میں فراہم کی جانے والی تعلیم کے معیار اور اس تک رسائی پر ہے۔ تاہم، جب فیسیں عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہو جائیں، تو یہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی المیہ بن جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی پالیسیوں میں اصلاحات کے دعوے اپنی جگہ، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ پاکستان میں تعلیم تک رسائی کا عمل غیر مساوی ہوتا جا رہا ہے۔ نجی یونیورسٹیوں کی بھاری فیسوں نے سماجی تفریق کو مزید گہرا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تعلیمی شعبے میں ایک ایسا خلا پیدا ہو رہا ہے جسے پُر کرنا آنے والے وقتوں میں مشکل ہوگا۔
تعلیمی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ اس سلسلے میں سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک ایک مربوط نظام کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم کو 'ایکسیس ایبل' (قابل رسائی) بنایا جا سکے۔ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونا ہے، تو تعلیم کو کاروبار کے بجائے ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ن لیگ اور دیگر سیاسی جماعتوں کے منشور میں تعلیم کی بحالی کے وعدے تو کیے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر ایک مضبوط اور سستے تعلیمی نظام کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ہر بچہ معیاری تعلیم سے مستفید ہو سکے۔