LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں اماراتی جہاز پر حملہ: خطے میں کشیدگی کا خدشہ

News Image
متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ایک تجارتی جہاز آبنائے ہرمز کے قریب کسی نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بنا ہے۔ اس واقعے کے بعد خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب متحدہ عرب امارات کے ایک تجارتی بحری جہاز کو نامعلوم حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد خطے میں پہلے سے موجود شدید کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق، عمان کی سمندری حدود کے نزدیک واقع اس جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے ہٹ کیا گیا، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ یہ اہم تجارتی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مہینوں میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس حملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر پیش رفت کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن سمندری حدود میں اس قسم کے واقعات سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سکیورٹی پر سوالات اٹھنے سے تیل کی عالمی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے حکام واقعے کے بعد صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور ابتدائی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب مغربی طاقتوں نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی جہاز رانی کے آزادانہ حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔ عالمی برادری کا مطالبہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ امریکہ نے اس واقعے کے بعد خطے میں اپنے فوجی اثاثوں کو مزید چوکس کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ خطے کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس طرح کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مشرق وسطیٰ میں فوجی محاذ آرائی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ اس وقت صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے میری ٹائم سکیورٹی ٹیمیں متحرک ہیں اور متاثرہ جہاز کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی لائنوں کو محفوظ بنانے کے لیے سمندری حدود میں نگرانی میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری لفظی جنگ اور تلخی کے اس ماحول میں، اس قسم کا واقعہ کسی بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، جس پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔