Entertainment
اولیویا وائلڈ: 'دی انوائٹ' کی سینما ریلیز کے لیے نیٹ فلکس کی پیشکش ٹھکرا دی
معروف اداکارہ اور ہدایت کارہ اولیویا وائلڈ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے اپنی فلم 'دی انوائٹ' کی تھیٹریکل ریلیز کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا جس کے تحت فلم کو نیٹ فلکس پر ریلیز کرنے کے بدلے خطیر رقم کی پیشکش کی گئی تھی۔
مشہور ہالی وڈ اداکارہ اور ہدایت کارہ اولیویا وائلڈ نے حال ہی میں ایک اہم انکشاف کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی حالیہ فلم 'دی انوائٹ' کو سینما گھروں میں ریلیز کروانے کے لیے کی گئی اپنی سخت جدوجہد کے بارے میں بات کی۔ وائلڈ کا کہنا ہے کہ اسٹوڈیوز اور اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کی جانب سے فلموں کو براہ راست او ٹی ٹی (OTT) پر لانے کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے، اور اسی سلسلے میں انہیں نیٹ فلکس کی جانب سے 20 ملین ڈالر کی بھاری پیشکش بھی موصول ہوئی تھی تاکہ وہ فلم کو سینما گھروں میں ریلیز کرنے کا ارادہ ترک کر دیں۔ اولیویا وائلڈ نے اس پیشکش کو ایک طرح کی 'رشوت' قرار دیا اور کہا کہ ان کے لیے فلم کا سنیما ہالز میں ریلیز ہونا ان کی تخلیقی ساکھ کے لیے بہت ضروری تھا۔
وائلڈ کے مطابق، آج کے دور میں ہدایت کاروں کے لیے اپنی فلموں کو بڑے پردے تک پہنچانا ایک چیلنج بن چکا ہے کیونکہ اسٹریمنگ سروسز مالی طور پر پرکشش آفرز دے کر تھیٹریکل ریلیز کے راستے کو بند کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سنیما کا تجربہ گھر میں بیٹھ کر فلم دیکھنے سے یکسر مختلف ہے اور وہ کبھی بھی اس تجربے پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تھیں۔ ان کی جدوجہد بالآخر رنگ لائی اور فلم کو بڑے پیمانے پر سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ صرف ان کی فلم کے لیے نہیں بلکہ سنیما کے کلچر کو زندہ رکھنے کے لیے تھی۔
اس فلم کے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اولیویا وائلڈ نے یہ بھی کہا کہ 'دی انوائٹ' کی کہانی نے ان کی ذاتی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس فلم کے پروجیکٹ کے دوران ان کے اندر کا 'سینک' (شکاکیت پسند) انسان کافی حد تک بدل گیا ہے اور وہ اب محبت اور انسانی رشتوں کے حوالے سے کہیں زیادہ رومانی سوچ رکھنے لگی ہیں۔ فلم کی تیاری کے مراحل اور اس کے تھیٹریکل ریلیز کے حصول تک کے سفر نے انہیں جذباتی طور پر کافی مضبوط اور پرامید بنا دیا ہے۔
اولیویا وائلڈ کی اس کاوش کو ہالی وڈ حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، جہاں کئی فنکار اب اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے تسلط کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ وائلڈ کا یہ قدم آنے والے وقت میں دیگر فلم سازوں کے لیے بھی ایک مثال بنے گا، جو اپنی محنت سے بنائی گئی فلموں کو بڑے پردے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ 'دی انوائٹ' محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک ہدایت کارہ کے عزم کی داستان ہے جنہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے مشکل راستہ چنا اور سنیما کی بقا کے لیے لڑائی لڑی۔