World
جنوبی بحیرہ چین تنازع: امریکہ کا چین پر اہم الزام
امریکی محکمہ خارجہ نے جنوبی بحیرہ چین میں چین کی جانب سے نیچر ریزرو کے قیام کو متنازع علاقے پر قبضے کی کوشش قرار دیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد فلپائنی ماہی گیروں کو ان کے روایتی ماہی گیری کے علاقوں تک رسائی سے روکنا ہے۔
امریکہ کے محکمہ خارجہ نے ایک سخت بیان میں چین کی جانب سے جنوبی بحیرہ چین میں مبینہ 'نیچر ریزرو' یا قدرتی ذخائر کے قیام کے منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام درحقیقت ماحولیاتی تحفظ کا بہانہ بنا کر متنازع سمندری علاقوں پر اپنی بالا دستی قائم کرنے اور پڑوسی ممالک، بالخصوص فلپائن کے ماہی گیروں کو ان کی روایتی ماہی گیری گاہوں سے محروم کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ بیجنگ بین الاقوامی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بحری علاقوں پر غیر قانونی دعوے مضبوط کرنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے فلپائن نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جنوبی بحیرہ چین میں چین کی موجودگی اور اس طرح کے یکطرفہ اقدامات علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ فلپائن کا موقف ہے کہ یہ سمندری حدود اس کی معاشی خودمختاری کا حصہ ہیں اور ماہی گیروں کو وہاں جانے سے روکنا عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ امریکہ نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اس خطے میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی ملک کو سمندری حدود پر زبردستی قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جنوبی بحیرہ چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مقصد صرف قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا نہیں بلکہ اس اہم تجارتی راستے پر اپنی اسٹریٹجک گرفت مضبوط کرنا ہے۔ چین مسلسل یہ دعویٰ کرتا آیا ہے کہ تاریخی طور پر یہ علاقے اس کے ہیں، تاہم بین الاقوامی ثالثی عدالتیں اور عالمی برادری اس دعوے کو تسلیم کرنے سے انکاری رہی ہیں۔ اس تازہ ترین تنازع کے بعد خطے میں فوجی اور سفارتی سطح پر محاذ آرائی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکہ نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ سمندری حدود کے تنازعات کو پرامن طریقے سے اور قانون کے مطابق حل کرنے کے لیے چین پر دباؤ ڈالیں۔
آخر میں، یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جنوبی بحیرہ چین کا خطہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑا سیاسی اور تزویراتی مرکز بن چکا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی ہلچل متوقع ہے کیونکہ فلپائن اور دیگر علاقائی ممالک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ کیا چین اپنے اس مجوزہ 'نیچر ریزرو' منصوبے کو آگے بڑھاتا ہے یا بین الاقوامی دباؤ کے بعد اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتا ہے۔