LIVE
Loading Breaking News...

ہنٹر بائیڈن کا والد جو بائیڈن کی صحت اور تنازعات پر ردعمل

News Image
ہنٹر بائیڈن نے اپنے والد جو بائیڈن کی کینسر کے حوالے سے صحت کی صورتحال اور حالیہ سیاسی بحران پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے صدارتی بحث اور اپنے خلاف ہونے والی قانونی کارروائیوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن نے حال ہی میں ایک اہم انٹرویو کے دوران اپنے والد کی صحت اور خاص طور پر کینسر سے متعلق چیلنجز پر کھل کر بات کی ہے۔ ہنٹر بائیڈن کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی صحت اور سیاسی کیریئر کے حوالے سے جو مسائل سامنے آ رہے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ اور پریشان کن ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ایک بیٹے کے طور پر اپنے والد کو اس طرح کے دباؤ میں دیکھنا کسی بھی انسان کے لیے جذباتی طور پر بہت مشکل کام ہے۔ اس گفتگو کے دوران ہنٹر بائیڈن نے صدر جو بائیڈن کی حالیہ صدارتی بحث میں کارکردگی پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بحث کے دوران پیش آنے والی صورتحال نے پورے ملک میں تشویش پیدا کر دی تھی، تاہم وہ اپنے والد کی صلاحیتوں پر بدستور یقین رکھتے ہیں۔ ہنٹر بائیڈن نے وضاحت کی کہ کینسر اور دیگر طبی مسائل کسی بھی خاندان کے لیے ایک آزمائش ہوتے ہیں، اور بائیڈن خاندان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اپنے خلاف ہونے والی قانونی کارروائیوں اور حالیہ معافی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ہنٹر بائیڈن نے کہا کہ انہیں ان تمام مشکلات کا سامنا ہے جو ان کے خاندان کو بدنام کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ انہوں نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔ ہنٹر بائیڈن کا ماننا ہے کہ ان کے والد کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کی ذات کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ آخر میں، ہنٹر بائیڈن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ہر مشکل گھڑی میں اپنے والد کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کے والد کی سالوں کی خدمات کو مدنظر رکھیں اور ذاتی زندگی کے مسائل کو سیاسی میدان میں لانے کے بجائے حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہنٹر بائیڈن کی یہ گفتگو امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہے، جہاں لوگ صدر بائیڈن کی صحت اور ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔