Business
دفاعی حصص میں سرمایہ کاری کا رجحان کیوں کم ہو رہا ہے؟
سال 2025 میں دفاعی صنعت کے حصص میں ریکارڈ اضافے کے بعد اب سرمایہ کار اپنے منافع کو محفوظ بنانے کے لیے دیگر شعبوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ جیو پولیٹیکل حالات اور مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات اس بڑی تبدیلی کے بنیادی محرکات ہیں۔
سال 2025 کے دوران عالمی سطح پر جاری جیو پولیٹیکل کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دفاعی شعبے کی کمپنیوں کے حصص میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی تھی۔ سرمایہ کاروں نے اس توقع پر بڑی مقدار میں سرمایہ کاری کی تھی کہ عالمی عسکری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہوگا، جس سے دفاعی ٹھیکیداروں کو طویل مدتی فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، حالیہ دنوں میں مارکیٹ کے رجحانات میں ایک واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے اور سرمایہ کار اب اپنے پورٹ فولیو کو متوازن کرنے کے لیے دفاعی حصص سے سرمایہ نکال کر دیگر مستحکم شعبوں میں منتقل کر رہے ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ دفاعی حصص کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اب یہ اسٹاک کافی مہنگے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لیے منافع کا حصول مزید مشکل ہو گیا ہے۔ جب کسی مخصوص شعبے کے حصص اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جاتے ہیں، تو سرمایہ کاروں کے لیے یہ ایک فطری عمل ہوتا ہے کہ وہ منافع بک کر کے کسی اور ایسے شعبے کی طرف جائیں جہاں ابھی ترقی کی گنجائش موجود ہو۔ اس کے علاوہ، حکومتوں کی جانب سے دفاعی بجٹ کے مختص کردہ اہداف میں ممکنہ نظرثانی بھی سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کی ایک بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے۔
مزید برآں، مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اب سرمایہ کاروں کی توجہ ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبوں کی طرف مرکوز ہو رہی ہے، جہاں انہیں طویل المدتی استحکام اور منافع کی زیادہ امید نظر آ رہی ہے۔ دفاعی شعبے میں ہونے والی حالیہ تیزی اب ایک اشباع (Saturation) کی کیفیت تک پہنچ چکی ہے، جہاں مزید بہتری کے لیے نئے محرکات کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اب اپنے وسائل کو دفاعی صنعت کے بجائے ان صنعتوں کی جانب منتقل کر رہے ہیں جو عالمی اقتصادی بحالی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آخر میں، یہ بات واضح ہے کہ سرمایہ کاروں کا دفاعی حصص سے نکلنا دراصل مارکیٹ کے معمول کے ردعمل کا حصہ ہے۔ جیسے جیسے عالمی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوگا، سرمایہ کاری کے ترجیحی شعبے بھی تبدیل ہوتے رہیں گے۔ فی الحال، دفاعی شعبے میں ہونے والی یہ 'روٹیشن' اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اب غیر یقینی صورتحال کے بجائے ایسے شعبوں کو ترجیح دے رہے ہیں جو زیادہ متوقع اور پائیدار منافع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔