Business
گھریلو الیکٹرانکس کرائے پر حاصل کرنے کا نیا رجحان: دہلی اور پونے میں مقبولیت
بھارت کے بڑے شہروں میں مہنگی واشنگ مشین اور ٹی وی خریدنے کے بجائے کرائے پر حاصل کرنے کا رحجان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ صارفین کرائے کے پلیٹ فارمز کے ذریعے ماہانہ 400 روپے سے شروع ہونے والے منصوبوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔
بھارت کے بڑے شہری مراکز جیسے دہلی، گروگرام، نوئیڈا اور پونے میں سال 2026 کے دوران گھریلو الیکٹرانک آلات، خاص طور پر واشنگ مشین اور ٹی وی کو کرائے پر لینے کے رجحان میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ایسے دور میں جہاں ان آلات کی خریداری کی قیمت 12 ہزار سے لے کر 60 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے، صارفین اب بڑی سرمایہ کاری کرنے کے بجائے 'رینٹو موجو' جیسے پلیٹ فارمز کا رخ کر رہے ہیں، جہاں یہ سہولیات ماہانہ 400 روپے جیسے انتہائی کم کرائے پر دستیاب ہیں۔ یہ تبدیلی خاص طور پر ان گھرانوں میں مقبول ہے جو ملازمت یا دیگر وجوہات کی بنا پر مختصر مدت کے لیے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔
اس نئے معاشی ماڈل کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ صارفین اب مصنوعات کی طویل مدتی ملکیت کے بجائے اپنی رہائش کی مدت کے مطابق ضروریات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جب کوئی فرد کرائے کے منصوبے کا انتخاب کرتا ہے، تو اسے آلات کی مرمت کے اخراجات، پرانی ٹیکنالوجی کے متروک ہونے کا خدشہ، اور دوبارہ فروخت کے وقت ہونے والے نقصان سے مکمل نجات مل جاتی ہے۔ کرائے کی سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں ان تمام ذمہ داریوں کو خود اٹھاتی ہیں، جس سے صارفین کا بوجھ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔ یہ سہولت نہ صرف مالی طور پر فائدہ مند ہے بلکہ نقل مکانی کے وقت بھی بھاری سامان کی منتقلی کے جھنجھٹ سے نجات دلاتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رحجان خاص طور پر نوجوان پیشہ ور افراد اور کارپوریٹ ملازمین کے لیے ایک مثالی حل کے طور پر ابھرا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں، ایک ساتھ بڑی رقم خرچ کرنے کے بجائے ماہانہ بنیادوں پر معمولی ادائیگی کرنا صارفین کے بجٹ کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ مزید برآں، کمپنیاں اپنے صارفین کو اپ گریڈ کرنے کی سہولت بھی دیتی ہیں، جس سے وہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل آلات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، کرائے کا ماڈل صارفین کو ایک ہی پروڈکٹ کے ساتھ برسوں بندھے رہنے کی پابندی سے بھی آزاد کرتا ہے۔
مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ رجحان اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو الیکٹرانکس مارکیٹ کے روایتی فروخت کے ماڈل کو بڑی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کمپنیاں اب مصنوعات فروخت کرنے کے بجائے 'سروس' فراہم کرنے والی بن رہی ہیں، جس سے ری سائیکلنگ اور پائیداری کے پہلوؤں کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ دہلی اور پونے جیسے شہروں میں اس ماڈل کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ صارفین اب سہولت، لچک اور بچت کو ترجیح دیتے ہیں، جو کہ جدید شہری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔