Technology
امریکی واٹر سسٹم پر سائبر حملے: این ایس اے کے سابق سربراہ کا سخت موقف
سابق این ایس اے چیف جنرل پال ناکاسونے نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پانی کے نظام پر حالیہ سائبر حملوں کے بعد بنیادی ڈھانچے کو انٹرنیٹ سے الگ کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران سے منسوب ان حملوں نے ملکی سائبر دفاع کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔
امریکی خفیہ ایجنسی این ایس اے (NSA) کے سابق سربراہ اور ریٹائرڈ جنرل پال ناکاسونے نے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کی فراہمی کے نظام کے کنٹرولرز کو کسی بھی صورت میں انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی کم از کم 12 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملے کیے گئے ہیں، جن کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں ایران کا ہاتھ ملوث ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں۔ جنرل ناکاسونے نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے سائبر دفاعی نظام کو مزید مستحکم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق، جدید دور میں پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس اور ڈسٹری بیوشن سسٹم کو خودکار بنانے کے لیے انٹرنیٹ سے جوڑا گیا ہے، جو کہ بنیادی طور پر ایک بڑی سیکیورٹی خامی ہے۔ اگر یہ کنٹرولرز انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہوں تو دنیا کے کسی بھی کونے سے ہیکرز ان سسٹمز میں گھس کر پانی کی فراہمی کو روک سکتے ہیں یا کیمیکل ملا کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ سابق این ایس اے چیف کا کہنا ہے کہ 'ایئر گیپ' (Air-gapping) یعنی سسٹم کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر منقطع رکھنا ہی ان حملوں سے بچاؤ کا واحد مؤثر طریقہ ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تکنیکی ترقی نے سہولیات تو فراہم کی ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملکی انفراسٹرکچر کے لیے خطرات میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
جنرل ناکاسونے نے مزید کہا کہ سائبر سیکورٹی اب محض آئی ٹی کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک قومی سلامتی کا سنگین معاملہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جیسے ممالک کی جانب سے ایسے حملے ثابت کرتے ہیں کہ وہ مغربی ممالک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے جدید ہیکنگ ٹولز استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ واٹر سسٹم چلانے والے اداروں کو سخت ضوابط کا پابند بنائے تاکہ انسانی جانوں کے لیے خطرات کو ٹالا جا سکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نجی شعبے اور سرکاری اداروں کے درمیان بہتر تعاون کی اپیل کی تاکہ سائبر حملوں کی بروقت نشاندہی اور روک تھام ممکن ہو سکے۔
حالیہ برسوں میں امریکی انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے وفاقی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بنیادی ڈھانچے کے کنٹرولرز کو انٹرنیٹ سے علیحدہ نہیں کیا گیا تو مستقبل میں یہ حملے مزید سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ اب پوری دنیا اس بحث میں مصروف ہے کہ ٹیکنالوجی کے ان فوائد کے مقابلے میں سیکیورٹی کو کیسے یقینی بنایا جائے، کیونکہ پانی کی فراہمی جیسے اہم نظاموں میں معمولی سی غلطی بھی بڑے پیمانے پر انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔