LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی امریکہ اور ایران کو تصادم میں دھکیلنے کی پچاس سالہ خفیہ حکمت عملی

News Image
گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران اسرائیلی حکومتوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ اس خفیہ حکمت عملی کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کو براہ راست محاذ آرائی کی طرف دھکیلنا تھا۔
گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران لگاتار آنے والی اسرائیلی حکومتوں نے واشنگٹن اور تہران کے مابین سفارتی کوششوں کو کمزور کرنے اور کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے ایک طویل المدتی خفیہ حکمت عملی پر عمل کیا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات اور سکیورٹی امور کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس خفیہ پالیسی کا مقصد ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کو کسی نہ کسی طرح براہ راست فوجی تصادم یا سنگین تنازع میں الجھایا جائے تاکہ خطے میں اسرائیل کی برتری اور تزویراتی پوزیشن برقرار رہے۔ ان برسوں میں جب کبھی بھی دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات یا تعلقات میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے، تل ابیب کی طرف سے مبینہ طور پر ایسی سفارتی اور خفیہ کارروائیاں کی گئیں جن کا مقصد اس عمل کو سبوتاژ کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، اس حکمت عملی میں انٹیلی جنس آپریشنز، اثر و رسوخ کی مہمات اور سفارتی دباؤ کا استعمال شامل ہے تاکہ امریکہ کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ ایران خطے میں امن کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ دوسری جانب، ایران کو بھی اشتعال دلانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے تاکہ کشیدگی کا یہ تسلسل نہ صرف جاری رہے بلکہ اس میں مزید شدت آئے۔ اس پچاس سالہ طویل کھیل نے مشرق وسطیٰ کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے اور خطے کی سلامتی کو مستقل عدم استحکام کا شکار بنایا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھی اس قسم کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی یہ خفیہ حکمت عملی خطے کو ایک بڑے پیمانے پر تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کر سکتی ہے۔ عالمی برادری اور بااثر ممالک کے لیے یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اس طویل المدتی کشیدگی کے اسباب کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کریں۔