LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب کا دفاعی رخ: امریکا سے دوری اور ترکی و پاکستان سے قربت

News Image
سعودی عرب خطے میں اپنے دفاعی شراکت داروں کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے اب ترکی اور پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھا رہا ہے۔ یہ اقدام امریکی انحصار کو کم کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے اپنی دفاعی ضروریات اور سیکیورٹی حکمت عملی کے لیے ترکی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانا ایک نئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی میں سعودی عرب کا دفاعی انحصار زیادہ تر امریکہ پر رہا ہے، تاہم بدلتے ہوئے عالمی سیاسی منظرنامے اور مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال کے پیش نظر سعودی قیادت اب اپنے اسٹریٹجک شراکت داروں میں تنوع پیدا کر رہی ہے۔ اس پیش رفت نے بین الاقوامی مبصرین کے درمیان یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا ریاض اب واشنگٹن پر اپنے روایتی انحصار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان اور ترکی کے ساتھ دفاعی اور فوجی تعاون میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اب ایسے ممالک کے ساتھ شراکت داری کو ترجیح دے رہا ہے جو خطے کی سیکیورٹی حرکیات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات ہیں، جس میں عسکری تربیت اور تکنیکی تعاون کا ایک مضبوط پہلو شامل ہے۔ اسی طرح ترکی کی دفاعی صنعت میں حالیہ ترقی، خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کی تیاری میں، سعودی عرب کے لیے نہایت پرکشش ہے۔ یہ اشتراک سعودی عرب کو ایک ایسی دفاعی صلاحیت فراہم کر سکتا ہے جو کسی حد تک امریکی ہتھیاروں پر انحصار کی ضرورت کو کم کرتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین کا خیال ہے کہ اس پالیسی کے پیچھے سعودی عرب کا 'ویژن 2030' بھی کارفرما ہے، جس کا مقصد مملکت کو فوجی لحاظ سے خود کفیل بنانا ہے۔ ترکی اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی منصوبے نہ صرف سعودی عرب کی اپنی دفاعی صنعت کو فروغ دیں گے بلکہ اسے خطے میں ایک آزاد اور خودمختار طاقت کے طور پر ابھرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سعودی عرب مکمل طور پر امریکی چھتری سے باہر نکل رہا ہے، لیکن یہ بات عیاں ہے کہ ریاض اب اپنے قومی مفادات کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے پر آمادہ ہے۔ اس حکمت عملی کے چیلنجز بھی کم نہیں ہیں۔ خطے میں بدلتے ہوئے سیاسی اتحادوں اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کے درمیان، سعودی عرب کو توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہوگی۔ خاص طور پر امریکا کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے ترکی اور پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو مزید گہرا کرنا ایک نازک سفارتی عمل ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ نیا اتحاد مشرق وسطیٰ کے سیکیورٹی ڈھانچے میں کس حد تک اثر انداز ہوتا ہے اور کیا یہ تینوں ممالک خطے میں ایک نیا دفاعی بلاک تشکیل دینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔