LIVE
Loading Breaking News...

ٹیسلا آٹو پائلٹ اور تیز رفتاری کے چالان: نئی قانونی بحث

News Image
ٹیسلا کی خود کار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے دوران تیز رفتاری پر چالان ہونے کے واقعات نے صارفین میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ پولیس اور حکام کا موقف ہے کہ ڈرائیور ہر حال میں گاڑی کے کنٹرول کا ذمہ دار ہے۔
جدید دور کی ٹیکنالوجی نے جہاں سفر کو آسان بنایا ہے وہیں ٹیسلا جیسی کمپنیوں کی 'فل سیلف ڈرائیونگ' (FSD) سسٹم کے حوالے سے نئی قانونی اور اخلاقی بحثیں بھی جنم لے رہی ہیں۔ حال ہی میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں ٹیسلا کے مالکان نے پولیس کی جانب سے تیز رفتاری کے جرمانے پر یہ موقف اختیار کیا کہ گاڑی کا کنٹرول اس وقت کمپیوٹر کے ہاتھ میں تھا اور وہ خود گاڑی نہیں چلا رہے تھے۔ ایک حالیہ کیس میں، جب پولیس افسر نے ایک ٹیسلا کار کو 45 میل فی گھنٹہ کی رفتار والی حد کے اندر 64 میل فی گھنٹہ کی رفتار پر روکا، تو مالک کا کہنا تھا کہ وہ گاڑی نہیں بلکہ آٹو پائلٹ سسٹم چلا رہا تھا۔ تاہم، پولیس نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے ڈرائیور پر ہی بھاری جرمانہ عائد کر دیا۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ ٹیسلا کی ٹیکنالوجی انتہائی ترقی یافتہ ہے، لیکن اسے مکمل طور پر انسانی نگرانی سے آزاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کمپنی کے اپنے دستاویزات اور انتباہی پیغامات میں بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ ڈرائیور کو ہر وقت سٹیرنگ وہیل پر ہاتھ رکھنا چاہیے اور سڑک پر مکمل توجہ دینی چاہیے۔ جب کوئی حادثہ یا ٹریفک قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تو قانونی طور پر گاڑی میں موجود انسان کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ پولیس کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے باوجود، گاڑی کا حتمی کنٹرول اور فیصلہ سازی کا اختیار انسانی ڈرائیور کے پاس ہونا چاہیے۔ ٹیسلا مالکان کی جانب سے اس صورتحال پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنی مارکیٹنگ میں جس طرح 'فل سیلف ڈرائیونگ' کو فروغ دیتی ہے، اس سے ایک عام ڈرائیور یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اب اسے گاڑی چلانے کی ضرورت نہیں۔ یہی غلط فہمی سنگین حادثات اور ٹریفک چالان کا باعث بن رہی ہے۔ اس صورتحال نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا خود کار گاڑیوں کے حوالے سے ٹریفک قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔ حالیہ واقعات کے بعد، ٹیسلا پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے سافٹ ویئر اور صارفین کی رہنمائی کے طریقہ کار میں مزید شفافیت لائے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ عدالتیں ان معاملات کو کس طرح دیکھتی ہیں اور کیا خود کار گاڑیوں کے حوالے سے ذمہ داری کا تعین بدل سکے گا یا نہیں۔ فی الحال، ٹیسلا کے صارفین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے سڑک کے قوانین پر خود بھی گہری نظر رکھیں کیونکہ ذمہ داری کا بوجھ تاحال ڈرائیور ہی اٹھا رہا ہے۔