Business
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، ملازمتوں کے اعداد و شمار پر سرمایہ کاروں کا ردعمل
امریکی حکومت کی جانب سے ملازمتوں میں غیر متوقع کمی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وال سٹریٹ پر اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد ٹریژری بانڈز کی پیداوار میں بھی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
وال اسٹریٹ پر جمعہ کے روز حصص کی قیمتوں میں غیر متوقع تیزی دیکھنے میں آئی، جس کی بنیادی وجہ امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ لیبر مارکیٹ کی تازہ ترین رپورٹ تھی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ آجروں نے غیر متوقع طور پر 23,000 ملازمتیں ختم کیں، جو کہ ماہرین کی پیش گوئیوں سے بالکل مختلف صورتحال تھی۔ عام طور پر ملازمتوں کے اعداد و شمار میں کمی کو معیشت کے لیے ایک منفی اشارہ سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ مارکیٹ کے حالات میں سرمایہ کاروں نے اس خبر پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اس مثبت رجحان کے نتیجے میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 47.68 پوائنٹس یا 0.6 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ انڈیکس 7,757.64 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ اس تیزی کے ساتھ ہی ہفتہ وار بنیادوں پر ایس اینڈ پی 500 میں مجموعی طور پر 3.6 فیصد کی ترقی ریکارڈ کی گئی، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک حوصلہ افزا خبر ہے۔ اسی طرح ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج میں بھی 151.83 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا، جس نے مارکیٹ کے مجموعی اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے ساتھ ساتھ ٹریژری ییلڈز (Treasury yields) یعنی حکومتی بانڈز کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ ملازمتوں کے اعداد و شمار میں یہ کمی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مستقبل میں شرح سود میں نرمی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، جس کی امید پر سرمایہ کار حصص کی خریداری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملازمتوں کا ڈیٹا معاشی سست روی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن وال اسٹریٹ اسے شرح سود میں کمی کے متوقع فائدے کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔
آنے والے دنوں میں سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی معیشت کے مزید اعداد و شمار پر مرکوز رہیں گی تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا یہ تیزی پائیدار ہے یا نہیں۔ مارکیٹ کے ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر ملازمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا، تو طویل مدت میں اس کے اثرات صارفین کی قوت خرید پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، فی الحال وال اسٹریٹ پر چھائے ہوئے جوش و خروش نے معاشی خدشات کو فی الحال پسِ پشت ڈال دیا ہے اور سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیوز میں حصص کی تعداد بڑھانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔