LIVE
Loading Breaking News...

ایم آر این اے فلو ویکسین: طبی سائنس میں ایک نیا انقلاب

News Image
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے فلو کے خلاف پہلی ایم آر این اے ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں دیگر مہلک بیماریوں کے علاج کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے صحت عامہ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے انفلوئنزا یعنی فلو کے خلاف دنیا کی پہلی ایم آر این اے (mRNA) ویکسین کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف فلو کے پھیلاؤ کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ یہ طبی سائنس کے ایک نئے باب کا آغاز بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ایم آر این اے ٹیکنالوجی، جس نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران اپنی افادیت ثابت کی تھی، اب فلو جیسی موسمی بیماریوں کے خلاف ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کی جائے گی۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین روایتی ویکسینز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے تیار کی جا سکتی ہے اور اسے وائرس کی نئی اقسام کے مطابق ڈھالنا بھی آسان ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی منظوری کے بعد طبی ماہرین اسے مستقبل کی ادویات کے لیے ایک 'گیم چینجر' قرار دے رہے ہیں۔ ایم آر این اے ویکسین انسانی خلیوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ وائرس کے کچھ مخصوص پروٹینز خود تیار کریں، جس سے جسم کا مدافعتی نظام وائرس کے خلاف لڑنے کے لیے پہلے سے تیار ہو جاتا ہے۔ اب یہ ٹیکنالوجی کینسر، ایچ آئی وی اور دیگر پیچیدہ جینیاتی بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ محققین کا ماننا ہے کہ اس کامیابی سے آنے والے برسوں میں ایسی ادویات کی تیاری ممکن ہو سکے گی جو اب تک ناقابل علاج سمجھی جاتی تھیں۔ اس ویکسین کے طبی تجربات کے دوران اس کی افادیت اور حفاظتی پہلوؤں کو انتہائی باریک بینی سے جانچا گیا، جس کے بعد ایف ڈی اے نے اس کے استعمال کی اجازت دی۔ حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کسی بھی نئی وبا (پینڈیمک) کے خلاف فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگرچہ فلو ایک عام بیماری معلوم ہوتی ہے، لیکن ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں اموات واقع ہوتی ہیں۔ ایم آر این اے ویکسین کا استعمال ان اعدادوشمار کو کم کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گا۔ آنے والے وقتوں میں، یہ ویکسین نہ صرف ویکسینیشن کے عمل کو تیز کرے گی بلکہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں کمی اور انسانی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔