Sports
فٹ بال کھلاڑی ڈریو ولیمز کا انتقال، مداحوں اور ساتھیوں میں غم کی لہر
لین ٹیک کالج پریپ کے سابق فٹ بال کھلاڑی ڈریو ولیمز دماغی چوٹ کے بعد طویل جدوجہد کے بعد 30 برس کی عمر میں چل بسے۔ انہیں اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی جانب سے ایک فطری لیڈر کے طور پر یاد رکھا جا رہا ہے۔
شکاگو کے معروف تعلیمی ادارے لین ٹیک کالج پریپ کے سابق فٹ بال کھلاڑی ڈریو ولیمز 30 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ ڈریو ولیمز کے لواحقین، دوستوں اور سابق کوچز نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور انہیں ایک ایسے باہمت انسان کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے جس نے اپنی زندگی کے آخری دس برس ایک شدید دماغی چوٹ (Traumatic Brain Injury) کے خلاف لڑتے ہوئے گزارے۔ ان کی وفات کی خبر نے پورے کھیلوں کے حلقوں میں غم کی فضا پیدا کر دی ہے۔
ڈریو ولیمز نہ صرف ایک باصلاحیت فٹ بال کھلاڑی تھے بلکہ اپنے ساتھیوں میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے بھی جانے جاتے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ میدان کے اندر اور باہر، وہ ہمیشہ ایک فطری لیڈر کا کردار ادا کرتے تھے، جس نے مشکلات کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ان کے فٹ بال کوچز نے بتایا کہ ڈریو کا نظم و ضبط اور ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کا جذبہ مثالی تھا، اور یہی وہ خوبیاں تھیں جنہوں نے انہیں اپنے ساتھیوں کے لیے ایک رول ماڈل بنا دیا تھا۔
واضح رہے کہ ایک دہائی قبل فٹ بال میچ کے دوران پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں ڈریو ولیمز شدید دماغی انجری کا شکار ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی تھی، تاہم انہوں نے اس چوٹ کے باوجود جس ہمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، اس نے ان کے ارد گرد موجود لوگوں کو گہرائی سے متاثر کیا۔ طویل طبی علاج اور بحالی کے عمل کے دوران انہوں نے کبھی مایوسی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا اور ایک جنگجو کی طرح اپنی زندگی کے ہر دن کا مقابلہ کیا۔
ان کے انتقال پر سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔ کمیونٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ ڈریو ولیمز کا انتقال ایک ایسے نوجوان کا نقصان ہے جس نے کھیل کی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان چھوڑی تھی۔ ان کے خاندان کے مطابق ڈریو کی زندگی کا سفر مختصر ضرور رہا، لیکن انہوں نے اپنی ہمت اور مثبت سوچ سے کئی لوگوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کی یادگار تقریبات میں ان کے تمام چاہنے والوں نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی زندگی کے روشن پہلوؤں کو یاد کیا۔