LIVE
Loading Breaking News...

ڈیلس پبلک لائبریری میں ملازمین کی برطرفیاں اور بجٹ کے چیلنجز

News Image
ڈیلس میں بجٹ کے نئے مالی سال سے قبل پبلک لائبریریز کے عملے میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے کوئی بھی شعبہ استثنیٰ نہیں رکھتا۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں عوامی سہولیات پر مالی دباؤ کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں ڈیلس پبلک لائبریریز کے کئی ملازمین کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے، یہ کارروائی نئے مالی سال کے متوقع ڈرافٹ بجٹ کی رونمائی سے صرف چند گھنٹے قبل عمل میں لائی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہر کو درپیش مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر تھے اور انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس بار کسی بھی شعبے کو 'مقدس گائے' نہیں سمجھا جائے گا، یعنی ہر محکمے میں اخراجات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سٹی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آنے والے بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں متوقع ہیں جس کا اثر بنیادی عوامی خدمات پر پڑ سکتا ہے۔ لائبریریز میں ہونے والی یہ برطرفیاں اسی وسیع تر مالیاتی حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد شہر کے بجٹ کو متوازن کرنا ہے۔ ملازمین کی تنظیموں اور کمیونٹی کے نمائندوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ لائبریریز جیسی اہم تعلیمی اور سماجی مراکز کو بجٹ کٹوتیوں کا نشانہ بنانا عوام، خاص طور پر طلبا اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ ڈیلس شہر کے میئر اور سٹی کونسل کے اراکین کے درمیان بجٹ کے حوالے سے جاری بحث میں بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ شہر کے مالیاتی گوشواروں کو بہتر کرنے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت ہے۔ اگرچہ انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ اقدامات شہر کے طویل مدتی مفاد میں ہیں، تاہم عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا عوامی سہولیات پر سمجھوتہ کر کے شہر کو مالی بحران سے نکالا جا سکتا ہے؟ آنے والے دنوں میں مزید محکموں کے بجٹ میں کٹوتیوں کے اعلانات متوقع ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شہر کی سماجی زندگی اور عوامی سہولیات پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔