LIVE
Loading Breaking News...

خودکار فائر فائٹنگ روبوٹ: نائیجیرین طالب علم کی شاندار ایجاد

News Image
نائیجیرین آرمی یونیورسٹی بیو کے طالب علم محمد انوہ عبداللہ نے ایک ایسا خودکار روبوٹ ایجاد کیا ہے جو گھر کے اندر لگنے والی ابتدائی آگ کو بغیر کسی انسانی مداخلت کے بجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اختراع انڈور فائر سیفٹی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
نائیجیرین آرمی یونیورسٹی بیو (NAUB) کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فائنل ایئر کے طالب علم محمد انوہ عبداللہ نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے انڈور آگ بجھانے والا ایک جدید خودکار روبوٹ تیار کیا ہے۔ یہ روبوٹ خاص طور پر گھروں یا دفاتر کے اندر لگنے والی چھوٹی آگ کو بغیر کسی براہ راست انسانی مداخلت کے شناخت کرنے اور اسے بجھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس اختراع کا مقصد ہنگامی حالات میں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر فوری طور پر آگ پر قابو پانا ہے۔ اس پروجیکٹ کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے یونیورسٹی کے ذرائع نے کہا کہ روبوٹ کو جدید سینسرز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس الگورتھمز سے لیس کیا گیا ہے، جس کی بدولت یہ دھوئیں اور درجہ حرارت میں اضافے کو فوری طور پر بھانپ لیتا ہے۔ جب روبوٹ کو کسی مخصوص علاقے میں آگ کا پتہ چلتا ہے، تو یہ خود بخود جائے وقوعہ کی طرف حرکت کرتا ہے اور اپنے اندر نصب پانی یا فائر ایکسٹنگوشر کے ذریعے آگ کو پھیلنے سے روکتا ہے۔ یہ روبوٹ خاص طور پر ان جگہوں کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے جہاں انسانوں کا پہنچنا مشکل یا خطرناک ہوتا ہے۔ محمد انوہ عبداللہ کی یہ کامیابی نہ صرف یونیورسٹی کے لیے بلکہ پورے نائیجیریا کے ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے ایک قابل فخر لمحہ ہے۔ تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے پروجیکٹس کو اگر کمرشل سطح پر فروغ دیا جائے تو یہ مستقبل میں فائر فائٹنگ کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ روبوٹ کو مزید بہتر بنانے کے لیے تحقیق جاری ہے تاکہ اس کی بیٹری کی صلاحیت اور آگ بجھانے کی رفتار کو مزید بڑھایا جا سکے۔ یہ روبوٹ انڈور فائر سیفٹی کے لیے ایک پائیدار اور کفایت شعار حل کے طور پر ابھرا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی طالب علم کی اس کاوش کو سراہا ہے اور مستقبل میں اسے مزید جدید آلات کے ساتھ اپ گریڈ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس ایجاد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نوجوان طلباء اگر مناسب وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے گراں قدر ٹیکنالوجی تخلیق کر سکتے ہیں۔