World
خفیہ ایپس کے ذریعے مجرمانہ نیٹ ورکس کی توسیع اور پولیس کے مسائل
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ کے واقعات کے بعد تفتیشی ادارے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مجرمانہ گروہ اب جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ خفیہ میسنجر ایپس کے ذریعے ہونے والی یہ بھرتی پولیس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں حال ہی میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعات نے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ٹورنٹو کے ڈاؤن ٹاؤن میں واقع امریکی قونصل خانے پر چند ماہ کے دوران دو مرتبہ فائرنگ کی گئی، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کچھ گرفتاریاں تو کی ہیں، لیکن اصل منصوبہ سازوں تک پہنچنا تفتیشی اداروں کے لیے ایک انتہائی مشکل مرحلہ بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان وارداتوں کے پیچھے کسی عام مجرم کا ہاتھ نہیں بلکہ منظم جرائم پیشہ گروہ کارفرما ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لے رہے ہیں۔
تفتیشی حکام کے مطابق، مجرمانہ گروہ اب خفیہ میسنجر ایپس (Encrypted Messaging Apps) کا استعمال کرتے ہوئے کم عمر اور نوجوان لڑکوں کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر رہے ہیں۔ یہ ایپس سیکیورٹی اداروں کی نگرانی سے بچنے کا ایک محفوظ ذریعہ فراہم کرتی ہیں، جس کی وجہ سے پولیس کو ان گروہوں کے درمیان ہونے والی بات چیت اور منصوبہ بندی کا پتہ لگانے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ ان ایپس پر ہونے والی گفتگو کو ٹریک کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ گروہ نوجوانوں کو 'کرائے کے قاتل' کے طور پر بھرتی کر رہے ہیں اور انہیں خوفناک جرائم کی طرف راغب کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے کینیڈین پولیس کے لیے نئے سیکیورٹی چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ انسدادِ جرائم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی پولیسنگ کے طریقے اب ان جدید ڈیجیٹل خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ مجرموں کی جانب سے سوشل میڈیا اور خفیہ ایپس کے ذریعے نوجوانوں کی ذہن سازی اور پھر انہیں واردات کے لیے استعمال کرنا معاشرتی اور قانونی سطح پر ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے اب پولیس کو نہ صرف زمینی سطح پر بلکہ سائبر انٹیلیجنس کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ حکام ان واقعات کے تدارک کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کریں گے تاکہ ان خفیہ نیٹ ورکس کا سراغ لگایا جا سکے۔ اس حوالے سے پولیس کی جانب سے عوام بالخصوص والدین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، کیونکہ یہ منظم گروہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلا کر انہیں جرائم کی دنیا کا حصہ بنا رہے ہیں۔ اگر ان گروہوں کے خلاف ڈیجیٹل اور زمینی سطح پر مربوط آپریشن نہ کیا گیا تو مستقبل میں اس قسم کے واقعات میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔