LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان ترکی سعودی عرب دفاعی معاہدہ اور عالمی سیاست پر اثرات

News Image
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کو ایک اہم اسٹریٹجک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد خطے میں بدلتے ہوئے توازن اور امریکی حکمت عملی پر اثرات کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ عالمی سیاست کے حلقوں میں ایک اہم موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس معاہدے کو مبصرین خطے میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ترک حکام کے مطابق اس دفاعی معاہدے کی نوعیت نیٹو (NATO) کے آرٹیکل 5 جیسی ہے، جس کا مطلب ہے کہ رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ پوری تنظیم پر حملہ تصور ہوگا۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم اسٹریٹجک قدم قرار دیا ہے۔ یہ اتحاد ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ تین اہم مسلم ممالک کا یہ اتحاد خطے میں اپنی سیکیورٹی خود سنبھالنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ دوسری جانب، پاکستان کے وزیر دفاع کی جانب سے اسرائیل کے حوالے سے سخت بیان نے اس معاہدے کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کے بعد اسرائیل کو ایک غیر قانونی ریاست قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے، جس سے اس دفاعی شراکت داری کے سیاسی عزائم بھی عیاں ہوتے ہیں۔ یہ اتحاد بلاشبہ ان ممالک کے درمیان عسکری تعاون اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو ایک نئی سطح پر لے کر جائے گا۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ نیا دفاعی بلاک خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو کس حد تک محدود یا تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ، جو طویل عرصے سے اس خطے میں اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کے ذریعے اثر انداز ہوتا رہا ہے، یقیناً اس پیش رفت کا بغور جائزہ لے رہا ہوگا۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ واشنگٹن کی علاقائی حکمت عملی کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ یہ ممالک اب اپنے مشترکہ دفاعی مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ خود مختار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، عالمی سیاست کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی ضروریات کے تناظر میں ایک متوازن کردار ادا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس اتحاد کے عملی اثرات واضح ہوں گے کہ یہ کس طرح خطے میں استحکام لانے یا نئے اتحادوں کے قیام میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔