LIVE
Loading Breaking News...

فیسکو نجکاری: بڑے کاروباری گروپوں کی سرمایہ کاری میں دلچسپی

News Image
فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے عمل میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد نے گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے اصلاحاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے۔
وفاقی وزیر برائے نجکاری اور سرمایہ کاری کے حکام کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ معلومات کے مطابق فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کے عمل میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر کی نجکاری کا عمل شفاف انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے جس کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور قومی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا ہے۔ اس حوالے سے مختلف سطحوں پر مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔ نجکاری کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 12 مختلف بڑے کاروباری گروپس نے فیسکو میں حصص خریدنے کے لیے اپنی ابتدائی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان نامور کاروباری اداروں میں نشاط گروپ اور سفائر فائبرز جیسے بڑے نام شامل ہیں، جو اس بولی کے عمل میں نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے یہ مسابقتی رجحان نجکاری کے عمل کو مزید شفاف اور منافع بخش بنائے گا، جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ نائب وزیراعظم اور متعلقہ حکام نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے حوالے سے پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ کمپنیوں کے مالی و انتظامی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت ناگزیر ہے۔ حکومتی پالیسی کے مطابق نجکاری کا عمل نہ صرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ صارفین کو بہتر سہولیات کی فراہمی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ حکومت اس پورے عمل کے دوران تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ فیسکو جیسے اہم اثاثے کی نجکاری پاکستان کی نجکاری کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اگر یہ عمل کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو یہ ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھولنے اور توانائی کے شعبے میں ریفارمز لانے کے لیے ایک ماڈل کیس ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں بولی دہندگان کی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی مراحل کو تیز کیا جائے گا تاکہ نجکاری کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔