LIVE
Loading Breaking News...

عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، اقوام متحدہ کا انتباہ

News Image
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عالمی سطح پر خوراک کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویوز اور جاری عالمی تنازعات زرعی پیداوار کی لاگت میں ریکارڈ اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) نے دنیا بھر میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ انسانیت ایک سنگین غذائی بحران کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ادارہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق عالمی فوڈ پرائس انڈیکس گزشتہ تین سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ اس اضافے کے پیچھے موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات، توانائی کے مہنگے نرخ اور عالمی سطح پر جاری جغرافیائی سیاسی تنازعات اہم ترین محرکات ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان عوامل کا مجموعی اثر عام آدمی کی قوت خرید پر بہت برا پڑ رہا ہے اور ترقی پذیر ممالک میں غذائی قلت کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویوز) اور بے موسم بارشوں نے زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ گندم، چینی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیائے خوردونوش کی پیداوار میں کمی اور ان کی سپلائی چین میں رکاوٹیں قیمتوں میں تیزی سے اضافے کا باعث بنی ہیں۔ عالمی منڈیوں میں توانائی کی بڑھتی قیمتیں کھاد اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں، جس کا بوجھ بالآخر صارفین کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث زرعی زمینوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے جو آنے والے وقتوں میں غذائی تحفظ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ مزید برآں، جاری عالمی تنازعات اور جنگوں نے عالمی منڈی میں سپلائی چین کے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے۔ کئی ممالک جو خوراک کی برآمد پر انحصار کرتے تھے، اب خود غذائی تحفظ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف فوری اقدامات اٹھائیں اور زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑھائیں تاکہ مستقبل میں خوراک کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ باہمی تعاون کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ کرے، بصورت دیگر دنیا کے کمزور طبقے قحط اور شدید مہنگائی کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے معاشی ماہرین کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں افراط زر کو ہوا دے رہی ہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی سطح پر سیاسی اور سماجی عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو اب اپنی غذائی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے اور مقامی سطح پر زرعی پیداوار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی منڈیوں کے اتار چڑھاؤ سے بچا جا سکے۔