Entertainment
گیلڈڈ ایج دور کے شاہانہ طرز زندگی کی دلچسپ حقائق
ایچ بی او کے مشہور ڈرامے گیلڈڈ ایج نے انیسویں صدی کے امریکی طرز زندگی کی تاریخ میں دوبارہ دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ اس دور میں مخصوص گھریلو اشیاء کا استعمال سماجی حیثیت اور امیر طبقے کی عکاسی کرتا تھا۔
ایچ بی او کے مقبول ڈرامے 'دی گیلڈڈ ایج' نے انیسویں صدی کے اواخر کے امریکی معاشرے کی شان و شوکت اور طرز زندگی کو ایک بار پھر دنیا بھر میں موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ میں تیزی سے صنعتی ترقی ہو رہی تھی اور امیر طبقہ اپنی دولت کا اظہار کرنے کے لیے نئے اور جدید گھریلو سامان کا استعمال فخر سے کرتا تھا۔ اس دور کے گھروں میں موجود اشیاء محض ضرورت کی چیزیں نہیں تھیں، بلکہ وہ اس دور کے معاشرتی مرتبے اور ثقافتی رجحانات کی عکاس تھیں۔ تاریخ دانوں کے مطابق ان گھروں میں موجود آرائشی اور فعال اشیاء اس بات کا ثبوت تھیں کہ میزبان کا معیار زندگی کتنا بلند ہے۔
گیلڈڈ ایج دور کے گھرانوں میں پانچ ایسی اشیاء شامل تھیں جن کا ہونا لازمی سمجھا جاتا تھا۔ سب سے پہلے 'سلوور سرونگ ٹرے' یا چاندی کے برتن تھے جو خاص مواقع پر مہمانوں کی میزبانی کے لیے استعمال ہوتے تھے اور دولت مندی کی واضح علامت تھے۔ دوسرے نمبر پر 'بیلے ٹاور' یا بھاری بھرکم فانوس تھے، جنہیں گھر کے مرکزی ہال میں نصب کرنا ایک روایت تھی۔ اس کے علاوہ، آرائشی سیرامک گلدان، ہاتھ سے بنی ہوئی ریشمی قالینیں اور موسیقی کے آلات جیسے پیانو بھی ہر امیر گھرانے کا لازمی حصہ تھے۔ یہ تمام اشیاء اس وقت کی دستکاری کی مہارت اور عالمی تجارت میں امریکی اثر و رسوخ کو ظاہر کرتی تھیں۔
مزید برآں، اس دور کے امیر گھرانوں میں کتابوں کی الماریاں اور مطالعے کے کمرے (لائبریری) کا اہتمام کرنا بھی ایک ضروری رجحان تھا۔ یہاں خاندانی ورثے میں ملنے والی نادر کتابیں اور نوادرات رکھے جاتے تھے جو خاندان کے پڑھے لکھے اور مہذب ہونے کی علامت سمجھے جاتے تھے۔ سردیوں میں گھر کو گرم رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی نفیس انگیٹھیوں کے سامنے بیٹھنا اور چائے کا اہتمام کرنا، اس دور کے ثقافتی معمول کا اہم حصہ تھا۔ یہ تمام اشیاء نہ صرف ان کے طرز زندگی کو سہولت بخشتی تھیں بلکہ گیلڈڈ ایج کے اس شاہانہ دور کی تاریخ کو بھی محفوظ رکھتی تھیں۔
آج جب ہم ان اشیاء کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ کس طرح صنعتی انقلاب نے گھریلو زندگی کے معیار کو تبدیل کیا تھا۔ گیلڈڈ ایج کا دور اپنی چمک دمک اور سماجی تضادات کی وجہ سے مشہور تھا، اور یہ پانچ گھریلو اشیاء آج بھی اس دور کی کہانی سنانے کے لیے اہم تاریخی ورثہ تصور کی جاتی ہیں۔ ایچ بی او کے ڈرامے نے ایک بار پھر ان قدیم اشیاء اور اس دور کے فن تعمیر کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی ہے، جس سے نئی نسل کو یہ سمجھنے کا موقع مل رہا ہے کہ انیسویں صدی کے امیر خاندان کس طرح اپنی زندگی گزارتے تھے۔