LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں انرجی ڈرنکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور مینوفیکچررز کا احتجاج

News Image
بھارت میں انرجی ڈرنکس کے مینوفیکچررز کی جانب سے شدید احتجاج کے باوجود حکومت نے ان مشروبات کے خلاف ایک سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صارفین بالخصوص نوجوانوں کی صحت کو لاحق خطرات سے بچانا اور ریگولیٹری قوانین کو مزید سخت کرنا ہے۔
نئی دہلی: بھارت میں انرجی ڈرنکس بنانے والی کمپنیوں کی مخالفت اور احتجاج کو نظر انداز کرتے ہوئے حکام نے ان متنازع مشروبات کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومتی اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کا ماننا ہے کہ مارکیٹ میں فروخت ہونے والی کئی انرجی ڈرنکس میں کیفین اور دیگر کیمیکلز کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ ہے، جو انسانی صحت بالخصوص نوعمر بچوں اور نوجوانوں کے دل و دماغ پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس حوالے سے صحت عامہ کے اداروں نے طویل عرصے سے ان مصنوعات کی مارکیٹنگ اور اجزاء پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ دوسری طرف، انرجی ڈرنکس تیار کرنے والی بڑی صنعتوں اور مینوفیکچررز نے اس ممکنہ کریک ڈاؤن کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اچانک اور سخت اقدامات سے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچے گا اور ہزاروں افراد کی روزگار سے وابستہ ملازمتیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ مصنوعات بین الاقوامی معیار کے عین مطابق تیار کی جا رہی ہیں اور ان کی فروخت کو مکمل طور پر روکنے یا محدود کرنے کے بجائے باہمی مشاورت سے کوئی درمیانی راستہ نکالا جانا چاہیے۔ تاہم، حکومتی حلقے اپنے فیصلے پر بضد دکھائی دیتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ تجارتی فوائد کے مقابلے میں عوام بالخصوص نوجوان نسل کی صحت اور فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مینوفیکچررز اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے درمیان مزید کشیدگی اور قانونی رسہ کشی دیکھنے میں آ سکتی ہے، کیونکہ حکام نے تمام متعلقہ دکانوں اور سپلائی چینز کی سخت جانچ پڑتال کا عندیہ دے دیا ہے۔