LIVE
Loading Breaking News...

اینڈی برنہم کا برطانیہ میں بڑھتی مہنگائی کے خلاف عوامی دورہ

News Image
مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم برطانیہ بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ایک خصوصی دورے کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس اقدام کو جہاں حکومتی حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہیں اپوزیشن اسے عوامی مشکلات کے حل کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔
مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نے برطانیہ بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی ملک گیر دورے کا اعلان کیا ہے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد عام شہریوں کی زندگیوں پر مہنگائی کے اثرات کو سمجھنا اور ان مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ اینڈی برنہم کا ماننا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے باوجود عام آدمی کی قوت خرید میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے، جس کے لیے عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ دوسری جانب، وزیراعظم ہاؤس (نمبر 10) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے حالیہ معاشی منصوبے عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور انہیں زندگی گزارنے کے لیے 'سانس لینے کی جگہ' دینے کے لیے کافی ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ وہ مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مستحکم پالیسیاں اپنا رہی ہے اور ایسے سیاسی دورے صرف عوامی جذبات کو ابھارنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کے مطابق، معاشی بحالی کا عمل جاری ہے اور جلد ہی اس کے مثبت نتائج عوام تک پہنچیں گے۔ اس صورتحال پر اپوزیشن کے رہنماؤں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ وزیراعظم کے دعوے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے اور ان کے معاشی منصوبے عام لوگوں کی بجائے مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ اپوزیشن نے وزیراعظم پر 'منافقت' کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ زمینی حقائق سے لاتعلق ہیں اور اینڈی برنہم کا دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کی مشکلات سنگین ہو چکی ہیں۔ اینڈی برنہم اب مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات اور نشستوں کے ذریعے براہ راست شہریوں سے بات چیت کریں گے تاکہ ان کی مشکلات کو بہتر انداز میں پارلیمنٹ اور میڈیا تک پہنچایا جا سکے۔ یہ دورہ اس وقت شروع ہو رہا ہے جب برطانیہ میں توانائی کی قیمتوں اور روزمرہ کی اشیاء کی مہنگائی ایک بڑا سیاسی موضوع بن چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اینڈی برنہم کی یہ مہم جہاں عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ کر سکتی ہے، وہیں یہ حکومت کے لیے آنے والے دنوں میں سیاسی دباؤ بڑھانے کا باعث بھی بنے گی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ برطانوی حکومت ان تنقیدوں کا کیا جواب دیتی ہے اور کیا یہ دورہ عملی طور پر عوامی مسائل کے حل میں کوئی تبدیلی لا سکے گا۔