Sports
فیفا صدر گیانی انفانتینو کے خلاف جاری مہم پر فیفا کا سخت ردعمل
عالمی فٹ بال کی نگران تنظیم فیفا نے اپنے صدر گیانی انفانتینو کے خلاف جاری مہم کو تنظیم کو کمزور کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ فیفا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ہتھکنڈے فٹ بال کے عالمی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
عالمی فٹ بال کی نگران تنظیم 'فیفا' نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں فیفا کے صدر گیانی انفانتینو کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ فیفا کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کے خلاف ایک منظم اور جاری مہم چلائی جا رہی ہے جس کا بنیادی مقصد نہ صرف ادارے کی ساکھ کو متاثر کرنا ہے بلکہ صدر گیانی انفانتینو کو بھی سیاسی طور پر کمزور کرنا ہے۔ فیفا انتظامیہ کے مطابق یہ کوششیں فٹ بال کی دنیا میں انتشار پھیلانے کے مترادف ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فیفا کے معاملات میں غیر ضروری مداخلت اور سوشل میڈیا سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر چلائی جانے والی مہمات کا مقصد تنظیم کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا ہے۔ فیفا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گیانی انفانتینو کی قیادت میں فیفا نے فٹ بال کی ترقی کے لیے بے شمار اقدامات کیے ہیں اور ان کے دور میں تنظیم کی مالی حالت اور شفافیت میں بہتری آئی ہے۔ اس لیے، اس قسم کی منفی مہمات دراصل عالمی فٹ بال کے وسیع تر مفادات کے خلاف ہیں اور یہ کھیل کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
تنظیم نے اپنے تمام اسٹیک ہولڈرز اور ممبر ایسوسی ایشنز پر زور دیا ہے کہ وہ ان پروپیگنڈا مہمات سے ہوشیار رہیں۔ فیفا کا ماننا ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں فٹ بال کے عالمی گورننس کے ڈھانچے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں تاکہ تنظیم کے اندرونی معاملات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ فیفا انتظامیہ نے واضح کیا کہ وہ ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اپنے صدر کے ساتھ کھڑی ہے۔
فیفا کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر فٹ بال کے انتظامی امور پر بحث جاری ہے اور کچھ گروپس کی جانب سے قیادت میں تبدیلی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کشمکش فٹ بال کی دنیا میں ایک نئی سیاسی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم فیفا نے اپنے بیان کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔