LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کی یونیورسٹیوں کا داخلہ معیار کم، تعلیم کے شعبے میں بڑی تبدیلی

News Image
بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں دس فیصد کمی کے بعد برطانیہ کی اعلیٰ تعلیمی اداروں نے داخلے کے معیار کو آسان بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو کے خلاف تحقیقات کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
برطانیہ کی معروف اور اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں نے اپنی داخلہ پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت اب طلبہ کے لیے داخلے کے معیار اور درکار گریڈز کو نرم کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں تقریباً دس فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کمی کے پیچھے ویزا قوانین میں سختی اور بڑھتے ہوئے تعلیمی اخراجات بنیادی وجوہات ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں یونیورسٹیوں کو اپنی مالی پوزیشن مستحکم رکھنے کے لیے داخلے کے عمل کو مزید لچکدار بنانا پڑ رہا ہے۔ سنڈے ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے بڑے تعلیمی ادارے اب بین الاقوامی طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سخت تعلیمی شرائط کو آسان بنا رہے ہیں۔ ماضی میں جو یونیورسٹیاں اپنے داخلے کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتی تھیں، اب وہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو داخلہ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں ہونے والی کمی کے خلا کو پُر کرنا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی آمدنی میں ہونے والی متوقع گراوٹ کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب کھیلوں کی دنیا سے خبر آ رہی ہے کہ فیفا کے صدر گیانی انفنٹینو ممکنہ طور پر ایک نئی تحقیقاتی مہم کا سامنا کرنے والے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یوئیفا (UEFA) اور فیفا کے اعلیٰ حکام کے درمیان مبینہ طور پر انتظامی امور اور شفافیت کے فقدان پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ابھی باضابطہ طور پر کسی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ فٹ بال کی دنیا کی گورننگ باڈیز کے اندرونی معاملات پر نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جس سے گیانی انفنٹینو کی پوزیشن پر اثر پڑ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر برطانیہ کا تعلیمی شعبہ ان دنوں ایک کٹھن مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ایک طرف طلبہ کا رجحان کم ہو رہا ہے تو دوسری طرف معاشی چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں۔ تعلیمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں کا یہ فیصلہ عارضی ہے یا مستقل، اس کا انحصار آنے والے تعلیمی سال میں داخلہ لینے والے طلبہ کی تعداد پر ہوگا۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کے درمیان ان معاملات پر بات چیت جاری ہے تاکہ برطانیہ کو عالمی سطح پر تعلیم کا بہترین مرکز برقرار رکھا جا سکے۔