LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں امدادی آپریشن: ملبے سے مزید لاشیں برآمد

News Image
غزہ میں امدادی ٹیموں نے ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے مزید 19 لاشیں نکال لی ہیں، جبکہ حکام کے مطابق 8 ہزار سے زائد لوگ تاحال ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ ভারী مشینری کی عدم دستیابی کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں جاری تباہ کاریوں کے بعد امدادی ٹیموں نے ایک اور تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے 19 لاشیں برآمد کر لی ہیں۔ طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور فضائی بمباری کے نتیجے میں شہر کا ایک بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، جہاں اب بھی ہزاروں افراد کے دبے ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ امدادی کارکنوں کی جانب سے انسانی بنیادوں پر جاری ان آپریشنز میں لاشوں کی بازیابی کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے کیونکہ علاقے میں مواصلات کا نظام اور بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔ حکام اور مقامی ریسکیو ذرائع کے مطابق غزہ میں آٹھ ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دفن ہو چکے ہیں۔ ان لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بھاری مشینری اور جدید آلات کی شدید کمی ہے۔ ایندھن کی قلت اور تباہ شدہ سڑکوں کے باعث کرینیں اور دیگر ضروری مشینری جائے وقوعہ تک پہنچانا ناممکن ہو چکا ہے، جس کے باعث رضاکاروں کو اپنے ہاتھوں یا معمولی اوزاروں کی مدد سے ملبہ ہٹانا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ غزہ کی صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ملبے تلے دبے افراد کی بازیابی کے لیے نہ صرف جدید آلات بلکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملبے کے نیچے موجود افراد کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جائیں گے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جاری یہ کوششیں اگرچہ قابلِ ستائش ہیں لیکن وسائل کی عدم دستیابی ان کے حوصلوں اور کارکردگی پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ دوسری جانب، مقامی آبادی اپنے پیاروں کی تلاش میں ملبوں کے ڈھیر پر بیٹھی مدد کی منتظر ہے۔ غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے سے اٹھنے والی بو اور مخدوش صورتحال سے وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر غزہ میں ہیوی مشینری اور طبی امداد پہنچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا کام تیز کیا جا سکے۔