LIVE
Loading Breaking News...

دماغی عمر رسیدگی اور مائکروگلیا خلیات میں تبدیلی: نئی سائنسی تحقیق

News Image
سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں دریافت کیا ہے کہ انسانی دماغ میں عمر رسیدگی کا عمل درمیانی عمر یعنی پچاس سال کی عمر کے بعد سے شروع ہو جاتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق دماغی خلیات میں ہونے والی سوزشی تبدیلیاں یادداشت اور ادراکی صلاحیتوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
سائنسدانوں کی ایک حالیہ تحقیق نے انسانی دماغ کے عمر رسیدہ ہونے کے عمل پر ایک نئی روشنی ڈالی ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ دماغ میں چھپی ہوئی تبدیلیاں پچاس سال کی عمر کے قریب یعنی درمیانی زندگی میں ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ محققین کے مطابق، دماغ کے اندر موجود مدافعتی نظام کے اہم خلیات جنہیں 'مائکروگلیا' کہا جاتا ہے، ان کی ساخت اور کام کرنے کے انداز میں وقت کے ساتھ ساتھ واضح تبدیلی آتی ہے۔ یہ خلیات دماغ کو انفیکشن اور سوزش سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، لیکن درمیانی عمر کے بعد ان کی کارکردگی میں کمی واقع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ تحقیق میں یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی ہے کہ خاص طور پر دماغ کے اس حصے میں جسے 'ہپوکیمپس' کہا جاتا ہے، مائکروگلیا کی تعداد میں بتدریج کمی دیکھی گئی ہے۔ ہپوکیمپس انسانی یادداشت اور سیکھنے کی صلاحیت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عمر کے اس مرحلے پر ان خلیات کی جگہ ایسے خلیات لے لیتے ہیں جو زیادہ مضبوط سوزشی سگنلز پیدا کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی بظاہر کسی بڑے نقصان کا باعث فوری طور پر نہیں بنتی، لیکن طویل مدت میں یہ عمل دماغی تنزلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ مزید برآں، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دریافت ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کیوں کچھ لوگ پچاس سال کی عمر کے بعد اپنی ذہنی چوکسی میں کمی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ سوزش پیدا کرنے والے سگنلز کی زیادتی دماغی بافتوں پر دباؤ ڈالتی ہے، جس سے اعصابی نیٹ ورک متاثر ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ عمل فطری عمر رسیدگی کا حصہ ہے، تاہم سائنسدان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا طرز زندگی میں تبدیلیوں یا جدید طبی مداخلت کے ذریعے اس سوزشی عمل کو سست کیا جا سکتا ہے تاکہ بڑھاپے میں دماغی صحت کو بہتر رکھا جا سکے۔ یہ مطالعہ آنے والے وقتوں میں نیورو سائنس کے شعبے میں نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ اگر ہم ان مخصوص خلیات کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ ڈھونڈ لیں، تو ممکن ہے کہ یادداشت کھونے کے امراض جیسے کہ ڈیمنشیا اور الزائمر جیسی بیماریوں کا علاج زیادہ مؤثر طریقے سے کیا جا سکے۔ فی الحال، یہ تحقیق اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسانی دماغ اپنی ساخت میں مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے اور درمیانی عمر کے بعد کی جانے والی احتیاطی تدابیر دماغی صحت کو برقرار رکھنے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔