LIVE
Loading Breaking News...

ایمازون اے آئی بوٹس کا مسئلہ: صارفین کو ریویوز دیکھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟

News Image
ایمازون کی جانب سے صارفین کو غلطی سے اے آئی بوٹس قرار دے کر ان کی ریویوز دیکھنے کی سہولت محدود کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے آن لائن پلیٹ فارمز پر خودکار حفاظتی نظاموں کی درستگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
آن لائن شاپنگ کی دنیا کی بڑی کمپنی ایمازون اس وقت ایک عجیب و غریب تکنیکی مسئلے کا شکار ہے جس نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ حال ہی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایمازون کا سسٹم کئی حقیقی صارفین کو غلطی سے 'مصنوعی ذہانت پر مبنی بوٹس' قرار دے رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان صارفین کی مصنوعات کے ریویوز دیکھنے کی صلاحیت کو محدود یا مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ تکنیکی خبر رساں ادارے ٹیک سپاٹ (TechSpot) کے مطابق، کئی صارفین نے شکایت کی ہے کہ جب وہ کسی پروڈکٹ کے بارے میں عوامی رائے جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں رسائی سے روک دیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی بنیادی وجہ ایمازون کا وہ خودکار حفاظتی نظام ہے جو پلیٹ فارم کو بوٹس اور جعلی ریویوز سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تاہم، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ الگورتھم حد سے زیادہ حساس ہو گیا ہے اور اب عام صارفین کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بھی مشکوک سرگرمی کے طور پر شناخت کر رہا ہے۔ یہ صورتحال صارفین کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے جو خریداری سے پہلے ریویوز پر انحصار کرتے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے اب تک اس مسئلے پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، لیکن ماہرین اسے اے آئی ٹیکنالوجی کے ضرورت سے زیادہ انحصار کا ایک منفی پہلو قرار دے رہے ہیں۔ اس واقعے نے ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے کردار اور اس کی حدود پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک جانب جہاں کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کو شفاف بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے رہی ہیں، وہیں ایسی غلطیاں صارفین کا اعتماد مجروح کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ اگر ایک بڑی کمپنی جیسے ایمازون اپنے صارفین کو پہچاننے میں اتنی بڑی غلطی کر سکتی ہے، تو دیگر چھوٹے پلیٹ فارمز کی صورتحال کیا ہوگی؟ مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی فرموں کو اپنے الگورتھم کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ صارفین اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایمازون فوری طور پر اپنے بوٹ ڈیٹیکشن سسٹم کا جائزہ لے تاکہ عام خریداروں کو بلاوجہ پابندیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس دوران، متاثرہ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے براؤزر کی کوکیز صاف کریں یا کسٹمر سپورٹ سے رابطہ کریں تاکہ ان کا اکاؤنٹ بحال کیا جا سکے۔