World
یورپ کا توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے بڑا منصوبہ
یورپی یونین نے توانائی بحران کے پیش نظر 2030 تک اپنی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو تین گنا بڑھانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں توانائی کی خود انحصاری کو یقینی بنانا اور مستقبل کے ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔
یورپی یونین نے توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور موسمیاتی اہداف کے پیش نظر ایک انتہائی اہم اور تزویراتی فیصلے کے تحت 2030 تک توانائی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت کو تین گنا بڑھانے کا حتمی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران یورپ کو مسلسل توانائی کے تین بڑے بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے یہ واضح کر دیا ہے کہ براعظم کا موجودہ مقامی توانائی کا نظام ناکافی ہے اور اسے فوری طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف توانائی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا بلکہ خطے کی خود انحصاری کو بھی بڑھائے گا۔
ماہرین کے مطابق توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ سبز توانائی کی منتقلی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یورپ میں ونڈ اور سولر پاور کے ذریعے پیدا ہونے والی بجلی کا زیادہ تر حصہ ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ اسے محفوظ کرنے کے لیے مناسب انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ اس نئے منصوبے کے تحت جدید بیٹری ٹیکنالوجی، ہائیڈروجن اسٹوریج اور دیگر جدید طریقوں پر بھاری سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ موسم کی تبدیلیوں کے باوجود بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔
اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے یورپی کمیشن نے رکن ممالک کے ساتھ مشاورت مکمل کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کی خود مختاری اب یورپ کی اولین ترجیح ہے، کیونکہ غیر ملکی ذرائع پر انحصار نے یورپ کو معاشی اور سیاسی طور پر غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف توانائی کی قیمتوں میں استحکام آئے گا بلکہ یہ یورپی صنعتوں کو بھی گرین انرجی کے ذریعے عالمی منڈیوں میں مسابقتی برتری فراہم کرے گا۔ یہ منصوبہ یورپی گرین ڈیل کا ایک اہم جزو ہے جس کا مقصد 2050 تک کاربن کے اخراج کو صفر کرنا ہے۔
آخر میں، اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار رکن ممالک کے درمیان قریبی تعاون اور نجی شعبے کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری پر ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے اس پیش رفت کو توانائی کے شعبے میں ایک 'انقلابی تبدیلی' قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر یہ ہدف حاصل کر لیا جاتا ہے تو یورپ نہ صرف اپنے توانائی کے مسائل حل کر لے گا بلکہ دنیا بھر کے لیے پائیدار توانائی کے نظام کی ایک بہترین مثال بھی قائم کرے گا جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔