LIVE
Loading Breaking News...

ہوا کے بغیر چلنے والے ٹائرز اور تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی کا مستقبل

News Image
ایک دہائی گزرنے کے باوجود مارکیٹ میں ہوا کے بغیر چلنے والے ٹائر عام نہیں ہو سکے، تاہم اب جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے انہیں گھر بیٹھے تھری ڈی پرنٹ کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ میٹل (METL) جیسے منصوبوں نے بائیسکل کے لیے کبھی پنکچر نہ ہونے والے ٹائروں کی نئی راہ ہموار کی ہے۔
ایک دہائی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی دنیا بھر میں 'ایئر لیس' یا ہوا کے بغیر چلنے والے ٹائرز کا خواب مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہیں کر سکا، تاہم ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت نے اس صورتحال کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مارچ 2021 میں جب ناسا کی جانب سے تیار کردہ 'میٹل' (METL) نامی ٹائر کا ذکر سامنے آیا تو سائیکل سواروں میں ایک نئی امید پیدا ہوئی تھی۔ یہ ٹائر 'شیپ میموری الائے' (Shape Memory Alloy) سے بنائے گئے تھے، جن کی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنی اصل شکل میں واپس آنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کبھی پنکچر نہیں ہوتے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد ایسی سواری فراہم کرنا ہے جو زندگی بھر پنکچر ہونے یا ہوا ختم ہونے کے جھنجھٹ سے آزاد ہو۔ ناسا نے اس دھات کو خلائی گاڑیوں کے لیے تیار کیا تھا، لیکن اس کی پائیداری نے اسے بائیسکل انڈسٹری کے لیے ایک انقلابی ایجاد بنا دیا۔ اگرچہ کمرشل سطح پر ان ٹائرز کی دستیابی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے اور صارفین انہیں عام دکانوں سے خریدنے سے قاصر ہیں، لیکن اب ایک اور راستہ کھل چکا ہے جو کہ تھری ڈی پرنٹنگ ہے۔ تھری ڈی پرنٹنگ ٹیکنالوجی نے عام لوگوں کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ خود اپنے لیے ایسے ٹائر ڈیزائن اور پرنٹ کر سکیں جو ہوا کے محتاج نہیں ہیں۔ اب بائیسکل کے شوقین افراد انٹرنیٹ سے دستیاب ڈیزائنز کا استعمال کرتے ہوئے ایسے ٹائرز تیار کر رہے ہیں جو نہ صرف پائیدار ہیں بلکہ کسی بھی قسم کے کچے یا پکے راستے پر چلنے کے لیے بہترین ہیں۔ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر صنعتیں کسی پروڈکٹ کو عام نہیں کر پا رہیں تو ٹیکنالوجی کے شوقین افراد خود اپنے مسائل کا حل نکال رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں، ہمیں ایسے مزید ٹائر دیکھنے کو ملیں گے جو کسی ایئر کمپریسر یا پمپ کے محتاج نہیں ہوں گے۔ اگرچہ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ میں ابھی بھی رکاوٹیں موجود ہیں، لیکن تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے ان ٹائرز کی فراہمی ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف وقت کی بچت کا باعث بن رہی ہے بلکہ پنکچر ہونے کے خوف سے بھی نجات دلا رہی ہے، جس سے بائیکنگ کا تجربہ پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور آسان ہو گیا ہے۔