LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثیوں کے خلاف حکومتی فورسز کا بڑا آپریشن شروع

News Image
یمنی مسلح افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑے اور ہمہ جہت آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد علاقے میں امن و امان کی بحالی اور جاری کشیدگی کو روکنا ہے۔ یہ کارروائی حوثیوں کی جانب سے سرکاری فوجیوں کو ہلاک کرنے کے واقعات کے بعد شروع کی گئی ہے۔
یمنی مسلح افواج نے حوثی باغیوں کے خلاف ایک بڑا اور فیصلہ کن آپریشن شروع کر دیا ہے، جس کے تحت ملک کے مختلف محاذوں پر ایک ساتھ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ حکومتی حکام کے مطابق یہ آپریشن حوثیوں کی جانب سے حال ہی میں کی گئی ان کارروائیوں کا ردعمل ہے جن میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے 38 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ حکومتی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے مسلسل جارحیت اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد ریاستی رٹ کو بحال کرنے کے لیے عسکری طاقت کا استعمال ناگزیر ہو گیا تھا۔ حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے سرکاری تنصیبات اور فوجی کیمپوں پر حملوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے یمن میں ایک نئی اور بڑی جنگ کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تازہ ترین جھڑپیں اس بات کی علامت ہیں کہ یمن ایک بار پھر خانہ جنگی کی دہانے پر کھڑا ہے اور خطے کا استحکام شدید خطرے میں ہے۔ بین الاقوامی مبصرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر فریقین نے تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو انسانی بحران میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یمنی مسلح افواج نے حوثیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ مزید اشتعال انگیزی سے باز آئیں، بصورت دیگر انہیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آپریشن کے دوران یمنی فورسز نے کئی اہم تزویراتی مقامات کو دوبارہ کنٹرول میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب خطے کے دیگر ممالک بھی یمن میں جاری سیاسی اور عسکری تعطل کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ فی الحال، میدانِ جنگ میں دونوں اطراف سے شدید فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔