World
صدر ایران کا اسلام آباد کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر اہم بیان
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد کے ساتھ ہونے والے ایم او یو کا دفاع کرتے ہوئے اسے ملکی مفادات کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام میں موجود مضبوط سماجی اتحاد نے امریکہ کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں اسلام آباد کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے خطے میں دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے معاہدے نہ صرف دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین اقتصادی و سفارتی تعلقات کو فروغ دیں گے بلکہ یہ باہمی اعتماد سازی کے عمل میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے ان ناقدین کو بھی جواب دیا جو اس پیش رفت کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھ رہے تھے، اور واضح کیا کہ یہ فیصلے ملکی مفادات کے پیش نظر اور قیادت کے وژن کے عین مطابق کیے گئے ہیں۔
اپنی تقریر کے دوران ایرانی صدر نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو تنہا کرنے کی کوششوں پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف کھڑا کیا جائے تاکہ خطے میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔ تاہم، صدر پزشکیان نے زور دیا کہ ایرانی قوم کی استقامت اور ان کے درمیان موجود سماجی اتحاد نے ان بیرونی سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایرانی عوام اپنے قائدین کے فیصلوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے بجائے اپنی خودمختاری کا تحفظ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
صدر نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ اگرچہ ایران سفارتی چینلز کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے، لیکن امریکہ کے رویے میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران ایک ایسے ماڈل کے طور پر ابھرا ہے جس نے استقامت اور ثابت قدمی کے ذریعے عالمی طاقتوں کے سامنے اپنا دفاع کیا ہے۔ ایران کی یہ حکمت عملی دراصل مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے تاکہ خطے کے مسائل کو بیرونی مداخلت کے بغیر آپس میں مل بیٹھ کر حل کیا جا سکے۔
آخر میں، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کی پالیسی پر گامزن رہے گا اور اسلام آباد کے ساتھ طے پانے والے معاہدے اسی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ ایران اپنے قومی مفادات اور اسلامی اقدار پر سمجھوتہ کیے بغیر خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی طاقتیں جتنی بھی کوشش کر لیں، ایرانی قوم کا اتحاد اور ملکی قیادت کے فیصلوں پر ان کا اعتماد، کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔