LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بڑا دعویٰ

News Image
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں ایران کی فوجی طاقت بھی نمایاں حد تک کمزور ہوئی ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ امریکی حکمت عملی کے تحت ایران کی جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایران اب اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ وہ ایٹمی طاقت بننے کے اپنے عزائم کو آسانی سے آگے بڑھا سکے۔ یہ بیان عالمی سطح پر ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے امریکی موقف کو مزید سخت ظاہر کرتا ہے۔ اپنے بیان میں جے ڈی وینس نے نہ صرف ایران کے ایٹمی پروگرام بلکہ اس کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں بھی تشویشناک انکشافات کیے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں اور دباؤ کے نتیجے میں ایرانی فوج کی عسکری صلاحیتیں پہلے کی نسبت کافی کمزور ہو چکی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے کی گئی کارروائیاں کامیاب رہی ہیں اور اس سے خطے کے سیکیورٹی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اگرچہ ایران نے ماضی میں ایسے دعووں کی تردید کی ہے اور اپنے ایٹمی پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے قرار دیا ہے، تاہم امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس قسم کے سخت بیانات خطے میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ امریکہ مسلسل ایران پر یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ اس کے دفاعی اقدامات ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ یہ صورتحال ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی برادری اب اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ ان دعووں کے بعد ایران کا ردعمل کیا ہوتا ہے اور کیا اس سے جوہری معاہدوں یا سفارتی مذاکرات پر کوئی اثر پڑے گا۔ جے ڈی وینس کے اس دعوے کے بعد عالمی طاقتوں کے مابین ایران کے ایٹمی پروگرام کے مستقبل پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں خارجہ پالیسی کے فیصلوں پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔