LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی جانب سے امریکی طیارے کا ملبہ نمائش کے لیے پیش، اہم انکشافات

News Image
ایرانی سرکاری میڈیا نے حال ہی میں ایک نمائش کے دوران امریکی طیارے کے تباہ شدہ ملبے کی تصاویر جاری کی ہیں۔ اس ملبے میں امریکی ایف-15 ای سٹرائیک ایگل طیارے کے باقیات بھی شامل ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے حال ہی میں ایک خصوصی نمائش کے دوران امریکی فضائیہ کے اس تباہ شدہ طیارے کے ملبے کو منظر عام پر لایا ہے جو 'آپریشن ایپک فیوری' کے دوران گرایا گیا تھا۔ اس نمائش میں خاص طور پر 'ڈیوڈ 44' (DUDE 44) کے نام سے معروف ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل (F-15E Strike Eagle) طیارے کے ٹکڑے رکھے گئے ہیں۔ ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ یہ تباہ شدہ طیارہ ایئر فریم 00-3000 سے تعلق رکھتا ہے، جس کے بعد اس واقعے کی مزید تفصیلات دنیا کے سامنے آ گئی ہیں۔ اس نمائش کا مقصد ایرانی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور ماضی کے ان واقعات کو یاد دلانا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی کا باعث بنے۔ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے پرزوں کو احتیاط کے ساتھ ایک ترتیب میں رکھا گیا ہے، جس سے اس کی تباہی کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے اس معاملے پر ابتدائی طور پر خاموشی اختیار کی گئی تھی، تاہم اب ایرانی دعووں اور تصاویر کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس واقعے پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران کی جانب سے ایسے جنگی سازوسامان اور تباہ شدہ طیاروں کے ملبے کی نمائش ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے تہران اپنے حریفوں کو اپنی عسکری پہنچ اور نگرانی کے نظام کی طاقت دکھانا چاہتا ہے۔ یہ واقعہ 'آپریشن ایپک فیوری' کے دوران پیش آیا تھا، جو کہ خطے میں امریکی اور ایرانی مفادات کے ٹکراؤ کا ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کی نمائشیں اکثر سفارتی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ مستقبل میں اس ملبے کی نمائش مزید کئی سوالات کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر ٹیکنالوجی کی بازیابی اور اس کے خفیہ رازوں کے حوالے سے۔ عالمی برادری اس پیشرفت کو مشرق وسطیٰ میں جاری سرد جنگ اور بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔ تہران کی جانب سے یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ ماضی کی عسکری کارروائیوں کو نہ صرف یاد رکھنے بلکہ اسے اپنی طاقت کے اظہار کے طور پر پیش کرنے میں بھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا۔