Technology
پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی: ڈیٹا کی حفاظت کے لیے نئی حکمت عملی
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی آمد سے موجودہ انکرپشن کے طریقے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ ادارے 'ہارویسٹ ناؤ، ڈکرپٹ لیٹر' حملوں سے بچنے کے لیے اپنی بنیادی ڈھانچے کو جدید سیکیورٹی معیارات پر منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں دنیا بھر کی حکومتیں اور بڑے کاروباری ادارے ایک ایسی نئی تکنیکی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں جس کا تعلق مستقبل میں آنے والی 'کوانٹم کمپیوٹنگ' سے ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق 'پوسٹ کوانٹم سیکیورٹی' اب ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جدید کوانٹم کمپیوٹرز اتنے طاقتور ہوں گے کہ وہ آج استعمال ہونے والے انکرپشن کے روایتی طریقوں کو چند سیکنڈز میں توڑ سکیں گے، جس سے نجی اور حساس ڈیٹا کے افشاء کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس مسئلے کی سب سے بڑی وجہ 'ہارویسٹ ناؤ، ڈکرپٹ لیٹر' (Harvest Now, Decrypt Later) حکمت عملی ہے۔ اس قسم کے سائبر حملوں میں دشمن عناصر آج ڈیٹا کو چوری کر کے محفوظ کر لیتے ہیں، حالانکہ وہ اسے فی الحال نہیں پڑھ سکتے۔ تاہم، ان کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی مستقبل میں کوانٹم کمپیوٹنگ کی صلاحیت عام ہو گی، وہ اس محفوظ کردہ ڈیٹا کو ڈکرپٹ (Decryption) کر کے تمام خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ یہ خطرہ خاص طور پر مالیاتی اداروں، دفاعی نیٹ ورکس اور سرکاری خفیہ ڈیٹا کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
متعلقہ اداروں کی جانب سے اب سیکیورٹی کے نئے معیار مرتب کیے جا رہے ہیں جو کوانٹم کمپیوٹرز کے حملوں کے خلاف مزاحمت کر سکیں۔ انفراسٹرکچر کی اس تبدیلی کے لیے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری اور تکنیکی مہارت کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اداروں کو فوری طور پر اپنے موجودہ سسٹمز کا جائزہ لینا چاہیے اور ایسی کرپٹوگرافک الگورتھمز کو اپنانا چاہیے جو کوانٹم حملوں کے سامنے دیوار بن سکیں۔ وقت کی ضرورت یہ ہے کہ پالیسی ساز اور آئی ٹی ماہرین مل کر ایک ایسا سیکیورٹی نیٹ ورک تیار کریں جو آج کی ضروریات کے ساتھ ساتھ مستقبل کے خطرات کو بھی ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔