LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں زمینوں کی ضبطی اور آثار قدیمہ کا تنازع

News Image
اسرائیل پر مغربی کنارے کے تاریخی فلسطینی علاقوں میں بڑے پیمانے پر زمینیں ضبط کرنے کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ تاریخی اور فلسطینی علاقوں میں بڑے پیمانے پر زمینیں ضبط کرنے کے لیے آثار قدیمہ کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد علاقے کے تاریخی اور ثقافتی تانے بانے کو تبدیل کرنا ہے، جس سے مقامی فلسطینی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر اس پالیسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں بلکہ اس سے خطے میں طویل المدتی امن کے قیام کی کوششوں کو بھی زبردست دھچکا لگ سکتا ہے۔ مقامی فلسطینی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس معاملے پر فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ زمینوں کی غیر قانونی ضبطی کے اس عمل کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب، اس پورے معاملے نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازع اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ان منصوبوں پر عمل درآمد جاری رہا تو اس سے زمینی حقائق یکسر تبدیل ہو جائیں گے اور فریقین کے درمیان مذاکرات کی فضا مزید متاثر ہوگی۔