LIVE
Loading Breaking News...

بینکسی آرٹ ورکس: برطانوی ٹیکس دہندگان کے ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈ خرچ

News Image
معروف برطانوی اسٹریٹ آرٹسٹ بینکسی کے فن پاروں کی حفاظت اور دیکھ بھال پر اب تک برطانوی عوام کے ایک لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈ خرچ ہو چکے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ان اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس پر عوامی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔
دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والے پراسرار برطانوی اسٹریٹ آرٹسٹ 'بینکسی' کے فن پارے جہاں ایک طرف دنیا بھر میں کروڑوں ڈالرز میں نیلام ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف ان فن پاروں کی حفاظت اور دیکھ بھال پر اٹھنے والے اخراجات بھی موضوع بحث بن گئے ہیں۔ ایک حالیہ انکشاف کے مطابق بینکسی کے دیواروں پر بنائے گئے فن پاروں کی حفاظت کے لیے برطانوی ٹیکس دہندگان کے تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار پاؤنڈ اب تک خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار معلومات تک رسائی (FOI) کے تحت دائر کی گئی درخواستوں کے جواب میں سامنے آئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آرٹ کے ان نمونوں کو محفوظ رکھنے کے لیے عوامی خزانے پر کافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ بینکسی کے فن پارے اکثر عام عوامی مقامات، دیواروں اور عمارتوں پر دیکھے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی حفاظت کرنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ مقامی حکام اور میونسپل انتظامیہ کو ان فن پاروں کو نقصان سے بچانے، انہیں صاف رکھنے اور ان کے گرد سیکیورٹی انتظامات کرنے کے لیے خطیر رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اخراجات کسی ایک مقام تک محدود نہیں ہیں بلکہ ملک بھر میں جہاں بھی بینکسی کا کام موجود ہے، وہاں کی مقامی کونسلز کو اس کی نگرانی کے لیے اضافی وسائل مختص کرنے پڑتے ہیں۔ یہ اخراجات نہ صرف ابتدائی دیکھ بھال بلکہ وقتاً فوقتاً مرمت اور حفاظتی کور لگانے پر بھی اٹھتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اخراجات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں ہے بلکہ ان میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بینکسی کا فن ایک ثقافتی اثاثہ ہے، لیکن کیا یہ مناسب ہے کہ عوامی پیسوں کو نجی آرٹ کے نمونوں کی حفاظت پر اتنی بڑی مقدار میں ضائع کیا جائے؟ دوسری جانب آرٹ کے شوقین افراد کا ماننا ہے کہ بینکسی کا کام کسی بھی شہر کی سیاحت کو فروغ دیتا ہے اور یہ سرمایہ کاری طویل مدتی فوائد کا باعث بن سکتی ہے۔ بہرحال، یہ معاملہ اب ایک عوامی بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں مالیاتی شفافیت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے درمیان توازن کا سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے کا عمل جاری ہے اور عوامی مطالبات زور پکڑ رہے ہیں کہ ان اخراجات کی مزید باریکی سے جانچ پڑتال کی جائے۔